تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 257 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 257

249 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر خلاصہ یہ ہے کہ ایک پہلو تو میں کر رہا ہوں دوسرے پہلو کو ہمارے انگریزی خوان جماعت نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے انہوں نے یہ تجویز کی ہے کہ تجارت کے طریق پر یہ کام جاری ہو جائے دین کی اشاعت ہو جائے۔بہر حال یہ ان کا ارادہ ہے میرے نزدیک جہاں تک یہ امرذ ہب سے تعلق رکھتا ہے میں اس کی حمایت کرتا ہوں اگر یہ تجویز عمل میں نہ بھی آدے تب بھی یہ کام ہو جائے گا بہر حال آپ غور کر لیں اللہ تعالٰی کو بہتر معلوم ہے "۔یہ سب انجمنیں جماعت کے دوسرے دوستوں کی تحریک پر بنی تھیں مگر دسمبر ۱۹۰۵ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وحی کی بناء پر بہشتی مقبرہ کی اور نظام الوصیت کی بنیاد رکھی تو اس بہشتی مقبرہ کی آمدی خرچ کے انتظام کے لئے خود ایک انجمن بنائی۔جس کا نام حضور نے انجمن کار پرداز مصالح قبرستان رکھا اور اس کا امین حضرت خلیفتہ المسیح اول مولوی نور الدین صاحب کو مقرر فرمایا - E یہ تھی "انجمن کار پرداز مصالح قبرستان " جسے حضرت اقدس علیہ السلام نے خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کا جانشین قرار دیا۔بعد ازاں اس میں سلسلہ کے دوسرے تمام اداروں کا انتظام شامل کر دیا گیا اور اس کا نام صدر انجمن رکھا گیا۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں۔دیہی انجمن بالا خر صد رانجمن کے نام سے قائم کی گئی گو پہلا نام اس کا جیسا کہ ضمیمہ (الوصیت) سے ظاہر ہے انجمن کار پرداز مصالح قبرستان تھا"۔انجمن کارپرداز مصالح قبرستان کا انجمن کارپرداز مصالح قبرستان صدر انجمن احمدیہ " کے نام سے کیسے موسوم ہوئی ؟ یہ ایک صدر انجمن احمدیہ سے موسوم ہونا نہایت اہم واقعہ ہے۔جس سے خواجہ کمال الدین صاحب کی ذہنیت کے علاوہ ان کے عزائم کا پتہ چلتا ہے جو در پر وہ صدر انجمن کے قیام سے وہ وابستہ کئے ہوئے تھے۔چنانچہ حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کی چشم دید شہادت ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوصیت لکھی اس وقت خواجہ صاحب جناب مولوی محمد علی صاحب کے پاس ان کے کمرہ میں بیٹھے ہوئے بار بار اپنی ران پر ہاتھ مارتے اور مولوی صاحب کو (جو کچھ لکھ رہے تھے ) یہ کہتے کہ مولوی صاحب آپ کو مزا نہیں آیا۔میرزا نے تو ایک قلم کے ساتھ آپ کی سلطنت بنادی ہے۔کیونکہ اگر ایک زمیندار کے دس بیٹے احمدی ہوں تو اتنے سال میں اس کی ساری زمین اور سب جائیداد آپ کی ملکیت اس ذریعہ سے ہو جائے گی۔مگر سلطنت بھی ایسی کہ سب زمین کی مالک نہ کہ اوروں کی طرح غیر مالک۔مگر یہ کام اب آپ کا ہے کہ اس کو ابھی سے شخصی ہونے سے بچا لو اور جمہوری بنالو۔اور بارہا اس کے دوہرانے کے بعد آپ نے جمہوریت کا یہ ڈھانچہ بیان کیا۔کہ