تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 256
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 248 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر ان حضرات نے پوری طرح کھل کر انسی لائنوں پر جماعت میں ایک جدید مکتبہ فکر کی بنیاد رکھی جو ظاہر ہے کہ احمدیت کی روح اور مزاج سے قطعا کوئی تعلق نہ رکھتی تھی۔خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ کی نگاہ سے خدائی سلسلہ کی مخصوص شان اور امتیازی خصوصیات کے اوجھل ہونے کا پہلا اثر تو یہ ہوا کہ عبدالحکیمی خیالات کو انہوں نے مستقل عقیدہ کی حیثیت سے اپنا لیا اور دوسرا اثر اس کے معابعد ہی صدر انجمن احمدیہ کے قیام پر ہوا جبکہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بلند شان اور عظیم مرتبہ کو یکسر فراموش کر کے جماعتی تنظیم و اتحاد کا واحد ذریعہ انجمن ہی کو سمجھ لیا۔اور اسی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد جماعت پر حاکم قرار دینے لگے اور یہاں تک غلو سے کام لیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو انجمن کو محض ایک ابتدائی زینہ کہا تھا مگر یہ اصحاب انجمن کے قیام کو ہی حضرت اقدس کا سب سے بڑا کارنامہ کہنے لگے۔چنانچہ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب لکھتے ہیں۔”حضرت اقدس مسیح موعود مرزا غلام احمد علیہ الرحمتہ مجدد وقت کی جب وفات کا زمانہ نزدیک آیا۔تو آپ نے ایک وصیت لکھی جس میں سب سے بڑا اور اہل دنیا کی نظروں میں حیرت انگیز کارنامہ یہ کیا کہ ایک انجمن بنا کر اسے اپنا جانشین قرار دیا اور کسی فرد واحد کو اپنا جانشین نہ بنایا۔صد را انجمن احمدیہ کا قیام اب میں اس طرف آتا ہوں کہ یہ صدر انجمن کا قیام کس طرح معرض ظہور میں آیا۔سو جاننا چاہئے کہ سلسلہ کے انتظامی امور کو چلانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اجازت سے مختلف اوقات میں مختلف انجمنیں جماعت میں قائم ہو ئیں۔مثلاً ۱۸۹۸ء میں مدرسہ کے انتظام کے لئے انجمن بنائی گئی۔دسمبر ۱۹۰۱ ء میں یہ انجمن تو ڑ دی گئی۔اور مدرسہ کے لئے ایک نئی انتظامیہ انجمن قائم ہوئی۔پھر 1901ء میں ہی خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ انگریزی خواں حضرات کی تحریک پر ایک انجمن اشاعت اسلام کی بنیاد پڑی جس کا مقصد مغربی دنیا میں اسلامی لٹریچر کی اشاعت تھا۔اس انجمن کے افتتاحی اجلاس میں حضور نے واضح فرمایا۔کہ "سب صاحب اس بات کو سن لیں کہ چونکہ ہماری یہ سب کارروائی خدا ہی کے لئے ہے وہ اس غفلت کے زمانہ میں اپنی حجت پوری کرنا چاہتا ہے۔جیسے ہمیشہ انبیاء علیہم السلام کے زمانہ میں ہو تا رہا ہے کہ جب وہ دیکھتا ہے۔کہ زمین پر تاریکی پھیل گئی ہے۔تو وہ تقاضا کرتا ہے کہ لوگوں کو سمجھارے اور قوانین کے موافق حجت پوری کرے اس لئے زمانہ میں جب حالات بدل جاتے ہیں اور خدا سے تعلق نہیں رہتا سمجھ کم ہو جاتی ہے اس وقت خداتعالی اپنے کسی بندہ کو مامور کر دیتا ہے"۔نیز فرمایا :-