تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 255
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 247 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر نے شائع کی تھی۔اس سے ہمارے مشن کی تبلیغ بہت جلدی اور عمدگی سے پھیل سکتی ہے۔۔۲۴ سوم۔آپ کا وجود خادم اسلام ہے نہ کہ وجود اسلام۔پس اپنے وجود کی خاطر اصل اشاعت اسلام کو روکنا حکمت و دانائی کے خلاف ہے۔جب اصل پر لوگ قائم ہوں گے تو فروعات خود قائم ہو جائیں گے۔چهارم۔عام حکمت کا یہ قاعدہ ہے کہ پہلے بڑے امراض کا علاج کیا جاتا ہے ملکی غذا ئیں دی جاتی اور قومی ثقیل غذاؤں سے پر ہیز کرایا جاتا ہے رفتہ رفتہ (جب) بڑے امراض سے صحت ہو جاتی ہے۔تب خفیف اور ضمنی امراض خود رفع ہو جاتے ہیں۔یعنی پہلے اسلام کو عام صورتوں میں پیش کرنا چاہئے۔رفتہ رفتہ علی قدر عقول الناس جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کا طریق رہا ہے اس کے اسرار اور معارف پیش کرنے چاہئیں۔پنجم۔محض ایک مسئلہ وفات مسیح اور آمد مسیح یا پیشگوئیوں پر تمام زور خرچ کرنا اور باقی اجزائے اسلام کو نظر انداز کر دینا یا غیر ضروری و حقیر سمجھنا سخت نادانی - پست خیالی - تنگ ظرفی اور ضد و تعصب میں داخل ہے۔۔۔۔۔۔ششم۔اسلام کی طرف اصل رہبر فطرت اور بچی تعلیم ہے نہ کہ محض پیشگوئیاں چنانچہ قرآن مجید نے بچی تعلیم اور فطرت کو ہی اصل رہنما اور رہبر قرار دیا ہے نہ کہ پیشگوئیوں کو۔۔۔پس محض پیشگوئیوں کو ہی ذریعہ ہدایت سمجھنا سراسر خلاف قرآن ہے اور قرآنی تعلیمات کو مردہ اسلام قرار دینا انتہا درجہ کی بے باکی اور بد نمی ہے۔افسوس کہ خاص قرآن کو تو مردہ اسلام قرار دیا گیا۔۔۔۔۔۔اس سے بڑھ کر قرآن اور اسلام کی اور کوئی توہین نہیں ہو سکتی کہ اس کی حیات کا دارو مدار ایک شخص کی منحصر تھا جو آج تیرہ سو سال کے بعد پیدا ہوا۔پس یہ نہایت ہی رذیل اور گستاخانہ کلمات تھے جو کلام الہی کی نسبت شائع ہوئے۔افسوس اس معاملہ میں احمدی جماعت نے ایسی تنگ خیالی اور ضد و تعصب کا نمونہ دکھایا کہ ساری قوموں سے سبقت لے گئے اور اپنے ہاتھ سے اس دیوار کو (جسے) پست خیال اور تنگ ظرف مولویوں نے احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان حائل کیا تھا اور اب وہ شکستہ ہو کر گرنے کے قریب ہو گئی تھی اس کو اپنے ہاتھوں سے پھر کھڑا کر دیا۔زات پر ۲۵ اس خط میں چونکہ اکثر انجمن کے بارے میں منکرین خلافت کا غالیانہ عقیدہ مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب ہی کے اندرونی خیالات و معتقدات کی عکاسی تھی اس لئے آئندہ چل کر