تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 250 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 250

تاریخ احمدیت۔جلد ۲۔242 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر خواب سناؤں مگر وہ نہ آئے۔میں نے کہا کیوں نہیں سنتے۔جو شخص خدا کی باتیں نہیں سنتادہ دوزخی ہوتا ہے"۔۔۔۔۔بعض بد قسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور بد گمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف مجھے وقتاً فوقتاً ایسے آدمیوں کا علم بھی دیا جاتا ہے۔مگر اذن نہیں دیا جاتا کہ ان کو مطلع کروں کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے۔پس مقام خوف ہے۔ولا تكلمني في الذين ظلموا انهم مفرقون۔۔۔۔یہ الہام خاص دوستوں کے لئے ہے"۔- سلسلہ قبول الہامات میں سب سے کچا مولوی تھا"۔۷۔لاہور میں ایک بے شرم ہے ویل لک ولا فکک تجھ پر اور تیرے جھوٹ پر ملامت اور افسوس ایک امتحان ہے بعض اس میں پکڑے جائیں گے اور بعض چھوڑ دئے جائیں گے انما یرید الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت ويطهركم تطهير ا "۔۔چند روز ہوئے میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ مرتدین میں داخل ہو گیا ہے میں اس کے پاس گیاوہ ایک سنجیدہ آدمی ہے میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا۔اس نے کہا کہ مصلحت وقت ہے"۔قاضی خواجہ علی صاحب مرحوم کی روایت ہے کہ ” میں نے حضرت اقدس کی زبان مبارک سے سنا کہ تم عبدالحکیم کو دیکھ کر کیا۔تعجب کرتے ہو ابھی میری نظر میں ۵۰۔۶۰ آدمی مرتد ہوں گے۔خدا اس جماعت پر رحم فرمائے۔رب ارحم رب ارحم رب ارحم "۔۔اگر بار یک نظر سے دیکھا جائے تو ان الہامات میں اس فتنہ کے متعلق مندرجہ ذیل حیرت انگیز تفصیلات کی اطلاع دی گئی ہے۔اول۔جماعت دو گروہوں میں بٹ جائے گی اور اس کا سبب پھوٹ ہو گا۔دوم۔ایک گروہ خوارج کی طرح حضرت مسیح موعود کی خلافت کا منکر ہو جائے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جانشین اس فتنہ پر صبر کرے گا۔اور ان فتنہ پردازوں کو جماعت سے خارج کرنے کی بجائے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دے گا۔ان لوگوں کا تمام تر شور و غوغا بد گمانیوں کے نتیجہ میں اٹھے گا اور یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض " خاص دوستوں میں سے ہوں گے۔سوم۔یہ فتنہ اٹھانے والا گر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خوابوں اور الہاموں کو کچھ وقعت