تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 239
تاریخ احمدیت جلد ۳ 231 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز اپنے باپ کی نسبت دے کر بات کیا کرتے تھے۔کیونکہ ان کے باپ غریب آدمی تھے اور چونکہ ان کے باپ کا نام ابو قحافہ تھا اس لئے اس موقعہ پر حضرت ابو بکر میں تھی نے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ کیا ابو قحافہ کا بیٹا خلافت کے مقام پر فائز ہونے کے بعد پہلا کام یہ کرے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے جو آخری مہم تیار کی تھی اسے روک دے؟ پھر آپ نے فرمایا۔خدا کی قسم اگر کفار مدینہ کو فتح کرلیں اور مدینہ کی گلیوں میں مسلمان عورتوں کی لاشیں کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی اس لشکر کو نہیں روکوں گا۔جسے محمد رسول اللہ نے روانہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا۔یہ لشکر جائے گا اور ضرور جائے گا۔یہ مثال بیان کرنے کے بعد آپ نے دوستوں سے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ لوگوں کا بھی یہ پہلا اجتماع ہے آپ لوگ غور کریں اور سوچیں کہ آئندہ تاریخ آپ کو کیا کے گی تاریخ یہ کہے گی کہ حضرت ابو بکڑ نے ایسے خطرہ کی حالت میں جبکہ تمام عرب باغی ہو چکا تھا اور جبکہ مدینہ کی عورتوں کی حفاظت کے لئے بھی کوئی مناسب سامان ان کے پاس نہ تھا اتنا بھی پسند نہ کیا کہ رسول اللہ ا کے ایک تیار کئے ہوئے لشکر کو روک لیں۔بلکہ آپ نے فرمایا کہ اگر مسلمان عورتوں کی لاشیں کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی محمد رسول اللہ ﷺ کے حکم کو منسوخ نہیں کروں گا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وفات سے اڑھائی سال پہلے دسمبر ۱۹۰۵ء کے جلسہ سالانہ پر تمام جماعت کے دوستوں سے مشورہ لینے کے بعد جس دینی مدرسہ کو قائم فرمایا تھا۔اور جس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ وہ مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوئی اور مولوی برہان الدین صاحب علمی کی یادگار ہوگا۔اور سلسلہ کی ضروریات کے لئے علماء تیار کرنے کا کام اس کے سپرد ہو گا۔اسے مسیح موعود کی جماعت نے آپ کے وفات پانے کے معابعد تو ڑ کر رکھ دیا۔کیونکہ جس طرح جیش اسامہ کی تیاری کا کام خود رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا اس طرح مدرسہ دینیات کا اجراء خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی آخری عمر میں فرمایا تھا۔پس دنیا کیا کہے گی کہ ایک مامور کی وفات کے بعد تو اس کے متبعین نے اپنی عزتوں کا برباد ہونا پسند کر لیا۔مگر یہ برداشت نہ کیا کہ رسول کریم اے کا حکم باطل ہو۔مگر دو سرے مامور کے متبعین نے باوجود اس کے کہ ان کے سامنے کوئی حقیقی خطرہ نہ تھا۔اس کے ایک جاری کردہ کام کو اس کی وفات کے معابعد بند کر دیا۔آپ کی اس مختصر تقریر نے خدا کے فضل سے تمام لوگوں کے قلوب کو آپ کی طرف پھیر دیا اور بعض کی تو رفت کی وجہ سے چینیں نکل گئیں۔اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم ہر گز یہ رائے نہیں دیتے کہ مدرسہ احمدیہ بند ہونا چاہئے۔ہم اسے جاری رکھیں گے اور مرتے دم تک بند نہیں ہونے