تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 5 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 5

جلد ۳ 5 حضرت خلیفہ اول اور آپ کا عہد خلافت خلعت فاخرہ عطا ہوئی ہے اس وقت خاکسار کی عمر ۱۸ سال تھی۔جب آپ قبلہ رو ہو کر بیٹھ جاتے اور نماز کے لئے صف بنتی تو آپ کے بائیں طرف تو آپ کا پلنگ ہوتا اور دائیں طرف خاکسار کھڑا ہو جاتا۔اور اس خیال سے کہ آپ کے بالکل قریب کھڑا ہونا آپ کی طبیعت پر گراں نہ ہو اور پاس ادب سے بھی خاکسار چند انچ کا فاصلہ درمیان میں چھوڑ کر کھڑا ہو تا۔لیکن آپ اپنے دائیں دست مبارک سے خاکسار کو بالکل قریب کر لیتے۔ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ عصر کی نماز کے وقت شیخ تیمور صاحب موجود نہیں تھے۔جب آپ نماز کے لئے تیار ہو گئے۔تو آپ نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی اور پھر خاکسار کو کمال شفقت سے فرمایا۔میاں تم نے بھی قرآن پڑھا ہے۔تم نماز پڑھاؤ۔تعمیل ارشاد کے سوائے چارہ نہ تھا امتحان کے بعد قادیان حاضر ہونے سے پہلے خاکہ مار والد صاحب کے استفسار پر ان کی خدمت میں گذارش کر چکا تھا کہ خاکسار کو قوی امید بفضل اللہ امتحان میں کامیابی کی ہے۔قادیان کے قیام کے دوران میں والد صاحب کا ارشاد موصول ہوا کہ حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں گذارش کرد که امتحان میں کامیابی کی بفضل اللہ امید ہے اور بصورت کامیابی اگر آپ اجازت عطا فرما ئیں تو میرے والد صاحب کی خواہش ہے کہ وہ مجھے مزید تعلیم کے لئے انگلستان بھیجیں اس لئے حضور کی خدمت میں اجازت کی درخواست پیش ہے۔زبانی تو عرض کرنے کا حوصلہ نہیں تھا۔خاکسار نے ایک رقعہ جس میں علاوہ اس گذارش کے امتحان میں کامیابی کی دعا کی اور بعض دیگر امور کے متعلق گزارشات تھیں آپ کی خدمت میں پیش کر دیا۔آپ پڑھتے گئے اور ساتھ ساتھ جاہیے پر اپنے ارشادات عالیہ مختصر الفاظ میں رقم فرماتے گئے اور پھر رقعہ خاکسار کو مع اپنے ارشادات کے واپس کر دیا۔جن فقروں میں دعا کی گزارش تھی ان کے مقابل پر دعا کریں گے ثبت تھا اور باقی فقروں کے مقابل مناسب احکام و ہدایات تھیں۔انگلستان جانے کی اجازت طلبی کے متعلق ارشاد تھا۔استخارہ کر ہیں۔آپ بھی اور آپ کے والد صاحب بھی۔پھر اگر اطمینان ہو تو اجازت ہے۔خاکسار نے اسی دن اس ارشاد کی تعمیل میں استخارہ شروع کر دیا۔اور چند دن کے اندر واضح اشارہ والد صاحب کی خواہش کی تائید میں پایا۔انہی دنوں میں دو تین اور طلباء نے بھی ایسی ہی اجازت حاصل کرنے کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں گذارش کی تھی لیکن آپ نے اجازت عطا نہیں فرمائی۔خاکسار کو تو کوئی خاص شوق بھی انگلستان جانے کا نہیں تھا۔بلکہ والدہ صاحبہ کی پریشانی کے پیش نظر طبیعت رکتی تھی۔لیکن آپ نے استخارے کے نتیجہ میں اطمینان ہونے کی شرط پر اجازت مرحمت فرما دی۔آپ کی مجلس تو ہر لحظہ سبق آموز تھی۔لیکن ایک دن دو واقعات تھوڑے سے وقفے پر ایسے پیش