تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 237 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 237

تاریخ احمدیت جلد ۳ 229 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز اکتوبر ۱۹۰۷ ء۔" اس تحریر کو پیش کرتے ہوئے ابتدا ہی میں ان کی زبان سے اس کی تشریح میں یہ کلمہ حق بھی نکل گیا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب اس انجمن کی بنیاد رکھی۔تو ساتھ ہی اس سلسلہ کے کاروبار کے نظم و نسق کے لئے ایک مجلس بھی مقرر فرمائی جس کا نام مجلس معتمدین ہے۔اس مجلس کے چودہ ممبر ہیں جن کو حضرت صاحب نے خود مقرر فرمایا۔اور ان کے امیر یعنی میر مجلس اپنی پاک فراست سے اس عظیم الشان انسان کو قرار دیا جو علم الہی میں آپ کے بعد آپ کا خلیفہ ہونے والا تھا اور جو اس وقت ہم سب کے امیر اور مقتدا ہیں "۔جماعتوں کی کانفرنس میں مدرسہ سب سے زیادہ کھل کر مخالفت کا مظاہرہ جماعتوں کی کانفرنس میں کیا گیا جو ۲۶/ دسمبر ۱۹۰۸ء کی دینیہ کے قیام کی شدید مخالفت رات ۸ بجے سے ۱۰ بجے تک مسجد مبارک میں منعقد ہوئی۔کانفرنس میں مدرسہ دینیہ کا مسئلہ پیش ہوا۔تو خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، سید محمد حسین شاہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب نے اپنے اجلاس (لاہور) کی رائے کی پر جوش رنگ میں حمایت کی اور تجویز کی کہ تعلیمی وظائف بڑھا دئے جائیں تا احمد کی نوجوان زیادہ سے زیادہ تعداد میں کالجوں میں جائیں اور پاس ہونے کے بعد ان میں سے جو دین کی خدمت کے لئے زندگی وقف کریں انہیں ایک آدھ سال میں قرآن پڑھا کر مبلغ بنا دیا جائے۔مسجد مبارک میں یہ اجلاس ہو رہا تھا مگر انجمن کے ان ممبروں نے عمد آیا سہوا یہ تجویز حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں نہیں پہنچائی تھی نتیجہ یہ ہوا کہ کانفرنس کے اختتام سے کچھ وقت قبل آپ کو علم ہوا کہ مسجد میں شورٹی ہو رہی ہے اور مدرسہ دینیہ کا سوال زیر غور ہے۔چنانچہ آپ اندر گئے تو خواجہ کمال الدین صاحب بڑے زور و شور سے تقریر کر رہے تھے کہ ہماری جماعت بڑی عقلمند ہے وہ کسی چیز کا ضائع ہونا گوارا نہیں کر سکتی ہمیں چونکہ انگریزی دان مبلغ چاہئیں اس لئے مدرسہ دینیہ پر اس قدر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں۔مدرسہ کے ذریعہ جو مبلغ تیار ہوں گے دنیا ان کے متعلق نہی کے گی کہ وہ روپیہ کی خاطر تبلیغ کر رہے ہیں۔لیکن اگر ہم اپنے نوجوانوں کو کالجوں میں تعلیم ولا ئیں کوئی ڈاکٹر بن جائے کوئی وکیل بن جائے کوئی انجینئر بن جائے کوئی سائنس کی اعلیٰ ڈگری حاصل کرے تو لوگوں پر اس کا بڑا اثر ہو گا۔اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسے اسلام کے جاں نثار خدام ہیں جو تنخواہ لئے بغیر تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔پس مدرسہ دینیہ کو بند کر دیا جائے اور نوجوانوں کو کالجوں میں تعلیم دلوائی جائے۔خواجہ صاحب کی اس تقریر پر ساری مجلس سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ رہی تھی اور ان کی رائے سے پوری طرح متفق نظر آتی تھی۔جب آپ نے حضرت مسیح موعود کی یادگار کے ساتھ یہ بے