تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 236 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 236

تاریخ احمدیت جلد ۳ 228 احمدیت میں کلام خلافت کا آغاز حضرت خلیفہ اول کی تقریر کے لئے وقت کی پابندی انجمن کے مطبوعہ پروگرام کے مطابق حضرت خلیفہ المسیح کی پہلی تقریر کے لئے ایک گھنٹہ وقت مقرر کیا گیا۔مگر عمل ہوا یہ کہ آپ کی تقریر نماز ظہر عصر کے بعد سے لے کر غروب آفتاب سے دس پندرہ منٹ قبل تک جاری رہی۔تقریر کے خاتمہ سے قبل آپ نے فرمایا۔m چونکہ فلاں شخص نے مجھے کہا ہے کہ میں نے بھی چند منٹ کے لئے کچھ عرض کرتا ہے اس لئے یہ دس پندرہ منٹ میں ان کے لئے چھوڑتا ہوں اس پر مولوی سید محمد احسن صاحب کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ خلیفہ وقت کی بہتک ہے۔کہ ان کا وقت مقرر کیا گیا اور عام لوگوں کی طرح ان کے لئے وقت کی تحسین کی گئی ہے۔اس پر خواجہ صاحب نے ذرا کھسیانے ہو کر کہا حکیم الامت صاحب کے مشورہ سے پروگرام بنایا گیا تھا۔مگر بات ظاہر ہو گئی اور لوگوں میں چرچا ہونے لگا۔کہ یہ لوگ خلیفہ کی اس طرح اطاعت نہیں کرتے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی کرتے تھے۔12 لیکچروں میں انجمن کی جانشینی کا وعظ :۔پروگرام کے مطابق انجمن کے ان اکابر نے اپنی تقریروں میں انجمن کی جانشینی کا پوری قوت سے ذکر کیا۔چنانچہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے کہا۔صدر انجمن احمد یہ خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے۔" ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے اپنا زور بیان اس پر صرف کیا کہ ہمیں بروز صحابہ بننے کے لئے صدرانجمن احمدیہ کی تجاویز پر عمل کرنا چاہئے۔اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا ذکر کرنے کے بعد مولوی محمد علی صاحب کی ذات کو نمایاں رنگ میں پیش کیا اور ان کی قربانی کو لاثانی قربانی " قرار دیا۔خود مولوی محمد علی صاحب نے اپنی رپورٹ کے ابتدا میں کہا۔”اس مجلس کے سپرد حضرت اقدس نے اس سلسلہ کے کل انتظامی کاروبار کو کیا اور اپنی زندگی میں ہی یہ کام اس مجلس میں کرایا۔اور اس کے تمام فیصلوں کو قطعی قرار دیا۔اور اس کے ثبوت میں ۲۷/ اکتوبر ۱۹۰۷ء کی حضرت اقدس کے قلم کی لکھی ہوئی یہ تحریر پڑھ کر سنائی کہ " میری رائے تو یہی ہے کہ جس امر پر انجمن کا فیصلہ ہو جائے کہ ایسا ہونا چاہئے اور کثرت رائے اس میں ہو جائے۔تو وہی امر صحیح سمجھنا چاہئے۔اور وہی قطعی ہونا چاہئے۔لیکن اس قدر میں زیادہ لکھنا پسند کرتا ہوں۔کہ محض دینی امور میں جو ہمارے خاص اغراض سے تعلق رکھتے ہیں مجھ کو محض اطلاع دی جائے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ انجمن خلاف منشاء میرے ہرگز نہیں کرے گی۔لیکن صرف احتیاطاً لکھا جاتا ہے کہ شاید وہ ایسا امر ہو کہ خدا تعالی کا اس میں کوئی خاص ارادہ ہو اور یہ صورت میری زندگی تک اور بعد میں ہر ایک امر میں اس انجمن کا اجتہاد کافی ہو گا۔“ والسلام مرزا غلام احمد ۲۷/