تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 235
تاریخ احمدیت جلد ۳ 227 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز کا حکم قطعی" قرار دیتی تھی کس طرح یکا یک حضرت خلیفتہ المسیح کو اب حضرت مولوی صاحب کے نام سے یاد کر کے آپ کے خلاف فیصلہ دینے میں حرج نہیں سمجھتی۔یہ حقیقت انجمن ہی کی دستاویزات سے واضح کرنے کے بعد اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ ۱۵/ نومبر ۱۹۰۸ء کو صدرانجمن احمدیہ کا ایک اجلاس (جس میں آپ کے مشورہ کی صریح خلاف ورزی میں فیصلہ دیا گیا) قادیان کی بجائے لاہور میں شیخ رحمت اللہ صاحب کے مکان پر ہوا۔اور اس میں صرف مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ہم خیال ممبر شامل ہوئے۔اور اس اجلاس میں سالانہ جلسہ کا پروگرام مرتب کیا گیا۔اور ایسے رنگ میں تقاریر کا پروگرام تیار کیا گیا کہ جماعت خلافت سے منحرف ہو کر انجمن کے قدموں میں آگرے۔پروگرام میں زیادہ تر انجمن کے انہی ممبروں کے بولنے کے مواقع رکھے گئے جو متفق الخیال تھے۔اور تجویز کی کہ مختلف پیرایوں میں بتایا جائے۔کہ انجمن ہی حضرت مسیح موعود کی اصل جانشین ہے تا دماغ ان کے ذہنی انقلاب کے لئے تیار ہو جائیں۔قبل ازیں انجمن ۲۷/ جون ۱۹۰۸ء کو حضرت خلیفتہ المسیح کے ارشاد کے مطابق مدرسہ دینیہ کی یادگار قائم کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔اور اس کے ضروری قواعد اور روپیہ کی فراہمی کے لئے سب کمیٹی بھی قائم ہو چکی تھی۔جس کے سیکرٹری مولوی محمد علی صاحب تھے۔مگر ۱۵/ نومبر ۱۹۰۸ء کے لاہور کے منعقدہ اجلاس میں ایک طے شدہ معاملہ کو دوبارہ جلسہ سالانہ کی کانفرنس انجمن ہائے احمد یہ میں پیش کرنے کا فیصلہ کر دیا گیا۔اور حضرت خلیفتہ المسیح کے ارشاد کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے انہوں نے اپنی رائے یہ لکھی۔" مجلس کی رائے میں عربی مدرسہ کے لئے بغیر وظیفہ کے طالب علموں کا ملنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔اور اس طرح پر مقصد دینی مدرسہ کا حاصل نہیں ہو سکتا۔بہتر معلوم ہوتا ہے۔کہ احمدی طلبہ کو اعلیٰ درجہ کی مروجہ تعلیم و ظائف دے کر دلائی جاوے یا ان کو خاص طور پر ڈاکٹری کے لئے تیار کیا جاوے۔اور یہ لڑکے وہ ہونگے جو قادیان ہائی سکول سے انٹرنس پاس کر کے نکلیں اور دینی تعلیم خصوصیت اور قابلیت سے حاصل کی ہو۔اور دنیوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کا خاص انتظام کیا جائے۔اور جب لاہور میں آویں ان کے لئے تعلیم دین کا خاص کچھ انتظام ہو جاوے اور جو گریجوایٹ عربی پڑھنے کے لئے مصر و غیرہ جاویں۔ان کو وظیفہ دیا جاوے جب کالج اپنا کھل جاوے۔تو وہاں عربی کا خاص انتظام ہو جاوے۔اس وقت مدرسہ عربی میں کوئی نئی جماعت نہ بنائی جاوے بلکہ اس کے لئے فیصلہ کا نفرنس کا انتظار کیا جاوے "۔جلسہ سالانہ کے موقعہ پر اس سوچی سمجھی سکیم کو کس طرح عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی؟ • اس کا کیا رد عمل ہوا اور کیا نتائج بر آمد ہوئے اب ہم ان پہلوؤں کی طرف آتے ہیں۔