تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 233
تاریخ احمد 225 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز |||A نازک تھا حضرت مسیح موعود کی اچانک وفات کی وجہ سے ڈاکٹر عبدالحکیم خان اور مولوی ثناء اللہ امرتسری نے بہت بڑا فتنہ اٹھایا ہوا تھا اور بڑا شور و شر کر رہے تھے اور جماعت احمدیہ کو اس وقت مرند کر دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔اور جماعت کے کمزور لوگ بہت انتشار کی حالت میں تھے اور بے دل ہو رہے تھے۔اس لئے خواجہ کمال الدین صاحب نے فرمایا کہ اس وقت چپ رہو۔وقت ایسا نازک ہے کہ اس مسئلہ کو چھیڑنے سے ایک نیا اختلاف اور فتنہ پیدا ہو جانے کا احتمال ہے چلو مولوی نور الدین صاحب ایک بزرگ عالم میں اگر ان کے ہاتھ پر دوبارہ بیعت کرلی تو کیا مضائقہ ہے۔" لیکن حق یہ ہے کہ خواجہ صاحب کی یہ ایک اصولی غلطی تھی - اس اصولی غلطی کے ازالہ کے لئے سب سے پہلا قدم ان حضرات نے یہ اٹھایا۔کہ آہستہ آہستہ انجمن کی کارروائیوں میں خلیفہ وقت کے فیصلوں اور احکامات سے گریز اختیار کر کے اس کی شان خلافت کو محض ایک امیرانجمن کی حیثیت دینی شروع کر دی۔اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے خود صدر انجمن احمدیہ کا قدیم ریکارڈ پوری پوری رہنمائی کرتا ہے کہ انجمن کے اجارہ داروں نے کس طرح آہستہ آہستہ خلافت کے مقام و عظمت سے گریز اختیار کیا۔پہلے خلیفہ المسیح لکھنا شروع کیا مگر چند ماہ بعد " حضرت خلیفہ صاحب اور پھر حضرت مولوی صاحب" کہہ کر آپ کے احترام کو بالکل پس پشت ڈال دیا۔اس امر کے اثبات کے لئے ہم ابتدائے خلافت اوٹی سے لے کر ۱۵/ نومبر ۱۹۰۸ء تک کے بعض اجلاسوں کے فیصلے اور کارروائی وغیرہ ذیل میں درج کرتے ہیں۔(یاد رہے ۳۰ / مئی ۱۹۰۸ء کا اجلاس عہد خلافت اولی کا سب سے پہلا اجلاس ہے) !!+ ١٠٠ (۳۰/ مئی ۱۹۰۸ء) "بموجب اجازت خاص حضرت امام خلیفة المسیح و المهدی انعقاد مجلس معتمدین کا آج بتاریخ ۳۰/ مئی ۱۹۰۸ ء قادیان میں بوقت آٹھ بجے صبح ہوا۔" قرار پایا کہ اب حسب احکام حضرت خلیفۃ المسیح الموعود لنگر خانہ کی حالت دگرگوں ہو گئی ہے۔اس لئے اس کاغذ کو داخل دفتر کیا جاوے۔" قرار پایا کہ تقر ر و ا ملین حضرت خلیفۃ المسیح کے ہاتھ میں ہے۔(۲۷/ جون ۱۹۰۸ء) رپورٹ مولوی محمد علی صاحب که حسب ارشاد جناب خلیفة المسیح حضرت اقدس کی یادگار میں ایک مدرسہ دینیہ اعلیٰ پیمانہ پر قائم کیا جائے جو مدرسہ انگریزی سے بالکل علیحدہ ہو اس کے اخراجات آمد و خرچ علیحدہ ہوں گے۔لہذا اس کے متعلق ضروری قواعد مرتب کرنے کا جلد انتظام کیا جائے۔پیش ہو کر قرار پایا کہ سب کمیٹی جس میں مفصلہ ذیل اصحاب ہوں صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب۔جناب نواب محمد علی خاں صاحب بالقابہ۔٢۔