تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 229 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 229

تاریخ احمدیت - جلد ۳ 221 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز اور غالبا ۲۱ / دسمبر کو وارد قادیان ہوئے۔کاٹھ گڑھ میں آپ کو ایک عجیب واقعہ پیش آیا اور وہ یہ کہ جب آپ وہاں پہنچے تو دوستوں نے مشورہ دیا کہ فلاں طرف رستہ میں ایک شدید دشمن رہتا ہے۔اندیشہ ہے کہ کہیں آپ پر حملہ نہ کر دے لیکن آپ نے اس بات کی ذرا پرواہ نہ کی اور اسی رستہ پر چل پڑے۔جب اس شخص کی نظر آپ پڑی تو وہ دوڑ کر آپ کی طرف آیا آپ کے ساتھیوں نے سمجھا کہ شاید آپ پر حملہ کرنے آ رہا ہے اس لئے وہ لاٹھیاں لے کر اکٹھے ہو گئے لیکن وہ شخص انہیں دھکہ دیتے ہوئے آگے بڑھا اور کہنے لگا یہ صرف تمہارے ہی پیر نہیں بلکہ ہمارے بھی پیر ہیں کیا ہم ان کی زیارت بھی نہ کریں پھر اس نے ایک روپیہ آپ کی خدمت میں پیش کیا اور کہا یہ میری طرف سے نذرانہ ہے اسے قبول فرما ئیں۔عہد خلافت اولی کے پہلے سالانہ جلسہ کے مختصر کوائف اس سال احباب جماعت کو غیر معمولی رنگ میں کئی مرتبہ قادیان اور لاہور آنا پڑا۔پھر قحط سالی اور بخار کی عالمگیر و با ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔مگر عہد خلافت اوٹی کا یہ پہلا جلسہ نہایت بارونق تھا۔جس میں شامل ہونے والے اصحاب دو تین ہزار کے لگ بھگ تھے۔حضرت خلیفہ اول میں اللہ کی تقریریں:۔جلسہ پر حضرت خلیفہ اول نے دو عظیم الشان تقریریں فرما ئیں پہلی تقریر نماز ظہر و عصر کے بعد سے مغرب تک جاری رہی۔اس پر معارف تقریر میں علاوہ دیگر امور کے آپ نے ضرورت خلافت اور اطاعت خلافت کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی دوران تقریر میں آپ نے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ "کر زن گزٹ (دہلی) نے حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ اب مرزائیوں میں کیا رہ گیا ہے ان کا سرکٹ چکا ہے ایک شخص جو ان کا امام بنا ہے اس سے تو کچھ ہو گا نہیں ہاں یہ ہے کہ تمہیں کسی مسجد میں قرآن سنایا کرے۔سوخدا کرے یہی ہو میں تمہیں قرآن ہی سنایا کروں۔اس کے بعد آپ نے قرآن مجید کی بعض آیات پڑھ کر ان کی لطیف تفسیر فرمائی۔اور آخر میں عربی زبان کی تعلیم کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی اور بتایا کہ لوگ کہتے ہیں عربی سے کیا ہوتا ہے میں کہتا ہوں عربی سے قرآن شریف آتا ہے۔عربی سے محمد رسول اللہ کی باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔عربی سے ابو بکر و عمر تبع تابعین کی قدر کو پہچانا جاتا ہے۔اس تقریر کے انتقامی الفاظ یہ تھے۔" تم نے خود میری بیعت نہیں کی۔بلکہ میرے مولیٰ نے تمہارے دلوں کو میری طرف جھکا دیا۔پس تمہیں میری فرمانبرداری ضروری ہے "۔آپ کی دوسری تقریر ۲۸/ دسمبر کو بعد نماز ظہر و عصر "حب" کے موضوع پر تھی جس میں آپ te