تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 4 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 4

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ کا عہد خلافت حزیں قافلہ قادیان وارد ہوا اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے جسد اطہر کو حضور کے باغ والے مکان کے دالان میں نماز جنازہ کی انتظار میں رکھ دیا گیا۔اس اثناء میں بعد مشورہ طے پایا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب الله حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلیفہ ہوں۔چنانچہ آپ نے جماعت کی بیعت لی۔اور جماعت کو نہایت قیمتی نصائح فرما ئیں۔اور خلیفتہ المسیح اول کی حیثیت سے جماعت کی باگ ہاتھ میں لی اور شکستہ اور زخم خوردہ دلوں کے لئے سہارا اور مرہم اور غمخوار اور غمگسار بنے۔خاکسار نے بھی اس موقعہ پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا جنازہ باغ کے آموں والے حصہ میں پڑھا گیا اور حضور کی تدفین عمل میں آئی۔خلافت اولیٰ کے دوران میں اگست ۱۹۱۱ء تک خاکسار کا یہ معمول رہا کہ گرمیوں کی تعطیل میں اور سالانہ جلسے پرتو بالالتزام قادیان حاضر ہوتا اور درمیان میں جب موقعہ مل جاتا۔مئی 1911ء میں بی۔اے کا امتحان دینے کے بعد خاکسار قادیان حاضر ہو گیا اور چند ہفتے متواتر حضرت خلیفتہ اصحیح اول کی خدمت میں حاضر رہنے اور آپ کے چشمہ فیض سے متمتع ہونے کا موقع ملا۔کم و بیش دو ماہ قبل گھوڑے پر سے گرنے سے آپ کو چوٹیں آئی تھیں۔اور ان میں سے ایک جو کنپٹی کے قریب تھی۔ناسور کی صورت اختیار کر گئی تھی جب خاکسار حاضر ہوا۔تو آپ بیٹھ تو جاتے تھے۔لیکن ابھی چلتے پھرتے نہیں تھے۔آپ کے پلنگ کے ساتھ ہی آپ کی نشست کا انتظام تھا آپ تکیوں کے سہارے بیٹھے ہوئے درس بھی دیتے تھے۔مریضوں کو بھی دیکھتے تھے۔حاجت مندوں کی حاجت روائی بھی فرماتے تھے۔اور منصب خلافت سے متعلقہ احکام اور ہدایات بھی جاری فرماتے تھے۔نماز کے لئے آپ مسجد میں تو تشریف لے جانہیں سکتے تھے۔اس لئے جب مسجد سے اذان کی آواز آتی تو آپ حاضرین سے ارشاد فرماتے جاؤ مسجد میں نماز ادا کرو۔اور خود نماز کی تیاری فرماتے اور اپنی نشست پر ہی قبلہ رو ہو جاتے۔چند شاگردوں اور خادموں کو ہدایت تھی کہ وہ آپ کے ساتھ نماز ادا کریں۔شیخ تیمور صاحب ایم اے جن کی تربیت آپ کی نگرانی میں ہوئی تھی امام ہوا کرتے تھے۔خاکسار کی حاضری کے پہلے ہی دن جب آپ نے فرمایا جاؤ مسجد میں نماز پڑھو تو خاکسار بھی دوسرے حاضرین کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔خاکسار کو یاد تھا کہ کئی دفعہ آپ فرما چکے تھے کہ جب عام ہدایت دی جاتی ہے کہ یوں کرو تو اکثر لوگ تو فور امستعدی ہے اس کے مطابق عمل شروع کر دیتے ہیں لیکن بعض جو اپنے تئیں نمبردار شمار کرتے ہیں حرکت نہیں کرتے۔گویا کہ وہ مخاطب ہی نہیں تھے۔آپ کے اس ارشاد کے پیش نظر خاکسار فورا چستی سے مسجد جانے کے لئے کھڑا ہو گیا۔تو آپ نے نگاہ بلند کر کے فرمایا۔میاں تم یہیں نماز پڑھا کرو۔خاکسار نے یوں محسوس کیا کہ دنیا کے سب سے بڑے روحانی دربار سے