تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 228 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 228

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 220 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز ۱۹۰۸ء کے رمضان میں حضرت خلیفتہ اصبح اول مسجد مبارک میں اعتکاف اور درس ی نے درس القرآن اور اعتکاف کے خاص مجاہدے کئے آپ کے ساتھ سید نا محمود بھی معتکف ہوئے۔چنانچہ اخبار بد ر۲۳/ اکتوبر ۱۹۰۸ ء میں لکھا ہے۔حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسلمین مولوی نور الدین ایدہ اللہ رب العالمین۔بیسویں تاریخ ماہ رمضان سے مسجد مبارک میں اعتکاف بیٹھ گئے ہیں۔آپ کے ساتھ کان رسالت کا چمکتا ہوا ہیرا سید محمود بھی معتکف ہے۔مولانا کی فیض رساں طبیعت اس خلوت میں بھی جلوت کا رنگ دکھا رہی ہے قرآن مجید سنانا شروع کیا ہے صبح سے ظہر کی اذان تک اور پھر بعد از نماز ظہر عصر تک اور عصر سے شام اور پھر عشاء کی نماز کے بعد تک تین پارے ختم کرتے ہیں۔مشکل مقامات کی تفسیر فرما دیتے ہیں۔سوالوں کے جواب بھی دیتے جاتے ہیں۔یہ نہ تھکنے والا دماغ خاص موہبت الھی ہے"۔لنگر خانہ کا انتظام صدرانجمن کی نگرانی میں لنگر خانہ کا انتظام حضرت مسیح موعود کی زندگی میں براہ راست حضور کے ہاتھ میں تھا مگر حضور کے وصال کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح اول کے منشاء کے مطابق لنگر خانہ کا انتظام صدر انجمن احمدیہ کی نگرانی میں دے دیا گیا اور اس کے لئے سالانہ بجٹ ۱۲۷۶۷ روپے منظور ہوا۔خلافت اولی میں جو بزرگ لنگر خانہ کے مہتمم رہے ان کے نام یہ ہیں۔(۱) حضرت حکیم فضل دین صاحب بھیروی حکیم محمد عمر صاحب II حضرت قاضی خواجہ علی صاحب - ۱۹۰۸ ء میں سید نا محمود کے بعض تبلیغی سفر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد سے ہی سید نا محمود میں تبلیغ حق کا ایک خاص جوش پیدا ہو چکا تھا اور اپنی تعلیمی مصروفیات انجمن حمید الاذہان کی اہم ذمہ داریاں اور صدر انجمن کی ضروریات کے باوجود آپ کو جہاں کہیں جانے کا اتفاق ہو تا آپ لیکچر دیتے اور خدا کے دین کی منادی کرتے اس تعلق میں آپ کا سب سے پہلا سفر جو اس غرض کے لئے ہوا۔بیگووال (ریاست کپور تھلہ) کی طرف تھا۔آپ حضرت خلیفتہ المسیح کی اجازت سے کسی شادی کی تقریب پر تشریف لے گئے اور وہاں آپ نے لیکچر دیا۔یہ وہی گاؤں ہے جہاں آپ کے پڑدادا حضرت میرزا عطا محمد صاحب برسوں پناہ گزین رہے تھے۔اس کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح اول کے حکم سے اور جماعت کا ٹھ گڑھ (ضلع ہوشیار پور) کی درخواست پر ۱۶/ دسمبر ۱۹۰۸ء کی صبح کو حضرت میر محمد اسحق صاحب کے ساتھ کاٹھ گڑھ تشریف لے گئے