تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 225 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 225

تاریخ احمدیت جلد ۳ 217 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز حضرت مولانار اجیکی صاحب کا تقرر خلیفہ اول کے حکم سے احمد یہ بلڈ نگس لاہور میں ہوا۔جہاں آپ نے سلسلہ کی دھاک بٹھادی۔علاوہ ازیں خلافت اوٹی کے عہد میں آپ نے ملک کے طول و عرض میں بے شمار تقریریں کیں۔بڑے بڑے معرکتہ الاراء مبائے گئے اور متعدد جماعتیں قائم کیں جن کا کسی قدر تذکرہ اپنے اپنے مقامات پر آئے گا۔الہ دین صاحب فلاسفر کو دیہات کے لئے واعظ مقرر کرنے سے قبل حضرت خلیفہ اول کے ارشاد سے مفتی محمد صادق صاحب کی موجودگی میں لیکچر کرایا گیا۔چنانچہ فلاسفر صاحب کافی عرصہ تک دیہات میں اپنے علم و قسم کے مطابق یہ خدمت سر انجام دیتے رہے۔مگر افسوس ان کے وعظ و تبلیغ میں تمسخر اور استہزاء کی جھلک زیادہ نمایاں ہوتی تھی۔جو عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی اور بالاخر انتہا تک پہنچ گئی۔یہ تو فقط انجمن کے زیر انتظام چند واعظوں کے نام ہیں ورنہ جلسوں اور مباحثوں میں حصہ لینے والے کئی مقررین و واعطین خدا کے فضل سے آگے آئے جن کا ذکر مختلف مقامات پر آرہا ہے۔بھیرہ کی جائداد کا سلسلہ احمدیہ کے لئے وقف کرنا حضرت خلیفہ اسی اول اے المسیح نے جولائی ۱۹۰۸ء میں اپنی بھیرہ کی قیمتی جائداد صد را انجمن احمدیہ کے نام ہبہ کردی۔جو دیوان گنپت رائے اور دولت رائے آف بھیرہ نے پانچ ہزار چھ سو ستاسی روپیہ بارہ آنے میں خریدی۔جس میں سے دو سال کی زکوۃ کی رقم آپ نے مر ز کوۃ میں منتقل کرنے کی ہدایت فرمائی۔تشدد پسند پارٹیوں کی مذمت تقسیم بنگال اور یونیورسٹیز ایکٹ کے بعد ۱۹۰۶ ء میں کانگریس نے اپنے اجلاس کلکتہ میں لوکل سیلف گورنمنٹ دئے جانے کا مطالبہ کیا اور ملک میں جابجا د ہشت انگیز اور انقلاب پسند خفیہ انجمنیں قائم ہو گئیں اور ہم سازی اور یورو چین افسروں کے قتل کی سازشیں زور پکڑ گئیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول ﷺ نے ان ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ " نیکی اور بھلائی اور رفاہ عام کے کام کبھی اس قابل نہیں ہو سکتے کہ ان کے لئے اخفا ضروری ہو اس لئے اگر کوئی خفیہ انجمن اپنے اغراض نوع انسان کی بھلائی کے متعلق ظاہر نہیں کرتی یا نہیں بتاتی وہ کبھی قابل تسلیم نہیں ہو سکتی کیونکہ ان انجمنوں میں شرارت اور شیطنت ہوتی ہے خفیہ انجمنوں کی تاریخ پر نظر کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ جہاں کہیں وہ ہیں انہوں نے امن عامہ میں خلل ڈالا ہے ہم ایسی انجمنوں سے سخت بیزار ہیں۔۔۔۔۔۔پس ان سے ہمیشہ پر ہیز کرو۔"