تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 222 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 222

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 214 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز کا روپیہ غرق کر رہے ہیں۔" آپ نے جواب دیا۔میں غرق کر رہا ہوں تم سے لے کر نہیں حضرت صاحب کا روپیہ ہے۔تم کون ہو جو مجھ پر اعتراض کرتے ہو۔جاؤ حضرت صاحب سے کہو " - بھرتیوں کے معاملہ میں بھی حضور نے یہی فرمایا کہ " میر صاحب کے کاموں میں داخل نہیں دیتا چاہئیے۔" DA ود حضرت میر صاحب نے پرانی بنیادوں سے اینٹیں کھدوا کر ان سے گول کمرہ کے آگے ایک خوبصورت سا احاطہ بنا دیا۔جو قابل رہائش صورت اختیار کر گیا۔جب حضرت میر صاحب وہاں سے اینٹیں نکلوار ہے تھے اس وقت بھی بعض کو تاہ اندیشوں نے اعتراض کیا کہ یہ کیا لغو کام کر رہے ہیں ؟ مگر آپ نے اس کی ذرہ بھر پروانہ کی اور برابر سلسلہ کے کام کرتے چلے گئے۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں دراصل وہی تعمیرات سلسلہ کے ناظم تھے۔اور اس کام کو انہوں نے نہایت درجہ اخلاص و محنت سے سرانجام دیا۔خلافت اولی کے آغاز ہی سے آپ نے قادیان کے غرباء اور دوسرے مقامی باشندوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی طرف خاص توجہ مبذول کرنی شروع کر دی تھی چنانچہ مجلس ضعفاء اس کی پہلی کڑی تھی۔ناصر وارڈ۔مجلس ضعفاء کے قیام کے بعد آپ نے قومی ضروریات کا وسیع جائزہ لیا۔تو سب سے پہلے آپ کے سامنے یہ مسئلہ آیا۔کہ صدر انجمن احمدیہ نے مختصر سی ڈمپنری کھول رکھی تھی۔مگر زیر علاج مریضوں کے لئے کوئی مخصوص مکان نہ تھا اور مریض عموماً حضرت خلیفہ اول کے مکانوں میں یا کرایہ کے مکانوں یا مہمان خانہ یا بورڈنگ ہاؤس میں قیام کرتے تھے۔ان حالات کو دیکھ کر حضرت میر صاحب کے دل میں پر زور تحریک اٹھی کہ وہ ایک ایسا مکان تعمیر کرائیں جس میں ڈسپنسری کے ساتھ بیماروں کے لئے بھی وسیع ہال ہو چنانچہ ۱۹۰۹ ء کے شروع سے آپ نے جماعت میں اس کے لئے چندوں کی تحریک کرنا شروع کر دی اور اس کا نام ایڈیٹر اخبار بد رنے نا صر وارڈ رکھا۔ناصر وارڈ کے کام پر حضرت خلیفہ اول نے نہایت درجہ خوشنودی کا اظہار فرمایا اور اس کے لئے خود بھی چندہ دیا اور دوسروں کو بھی تحریک فرمائی۔اس کے ابتدائی اخراجات کے لئے پہلی قسط آپ نے 1910ء میں مولوی محمد علی صاحب سیکرٹری انجمن احمدیہ کے پاس جمع کرا دی تھی۔آخر ۱۹۱۸ء میں نور ہسپتال کی شکل میں مکمل ہو گیا جو ہندوستان کے مسلمان فرقوں میں خدمت خلق کا ایک مثالی ادارہ تھا۔مسجد نور یہ نئے بورڈنگ اور ہائی سکول کے مابین واقع مشہور مسجد ہے۔جو آپ کی کوشش اور محنت سے تیار ہوئی۔