تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 219 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 219

تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 211 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز علم نہیں تھا کہ ”حق اولاد در اولاد کا الہام کیا کام کر رہا ہے۔میں جو نہی باہر نکلا ایک صاحب I مجھے ملے اور کہنے لگے میاں صاحب میں نے سنا ہے کہ آپ کی زمینوں کے لئے کسی نوکر کی ضرورت ہے۔میں نے کہا میں حیران ہوں کہ یہ کام کس طرح کروں۔کہنے لگے میں اس خدمت کے لئے حاضر ہوں میں نے کہا آپ شوق سے یہ کام سنبھالیں۔در حقیقت یہ آپ کا ہی حق ہے۔مگر آپ لیں گے کیا؟ کہنے لگا آپ مجھے صرف دس روپے دے دیجئے۔میں نے کہا دس روپے میرے پاس تو ایک پیسہ بھی نہیں۔کہنے لگے آپ فکر نہ کریں۔بڑی بھاری جائداد ہے اور میری تنخواہ اس میں بڑی آسانی کے ساتھ نکل آئے گی۔میں نے اسی وقت بغیر پڑھے رجسٹر ان کے حوالے کر دئے اور کہا کہ اگر دس روپے پیدا کر سکیں تو لے لیجئے۔ورنہ میرے پاس تو ایک پیسہ بھی نہیں اس کے بعد انہوں نے خدا کے فضل سے اس سے بہت آمد پیدا کر کے دی - کتاب ”پیغام صلح" کے خلاف محاز حضرت اقدس علیہ السلام کے قلم مبارک کا لکھا ہوا آخری رسالہ ”پیغام صلح " تھا۔جس میں حضور نے سلام سلام ملک میں امن و آشتی کی مستقل بنیاد قائم کرنے کے لئے بعض اہم تجاویز رکھی تھیں۔خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈ رہا ئیکوٹ نے ۲۱ / جون ۱۹۰۸ء کو پنجاب یونیورسٹی ہال میں رائے پر تول چند ر صاحب چیف جسٹس ہائیکورٹ کی صدارت میں جلسہ عام میں پڑھ کر سنایا۔خواجہ صاحب نے حضرت خلیفتہ المسیح کا ایک خط بھی پڑھا۔جس میں آپ نے بحیثیت امام و مقتدا خواجہ صاحب کو یہ مضمون پڑھنے کی اجازت دی تھی۔یہ پیغام خدا کے فضل سے اندرون و بیرون ملک میں عام طور پر بڑی وقعت و عظمت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔اور اس پر بڑے عمدہ ریویو لکھے گئے۔مگر افسوس پنجاب کے متعصب اور تنگ دل طبقوں میں ”پیغام صلح" کی مخالفت کی گئی۔چنانچہ رسالہ المجد د نے جولائی ۱۹۰۸ء کے شمارہ میں اسے آپ کی کوئی گہری سازش اور چال قرار دیا۔آرید اخبار " پر کاش " اور پادری اکبر مسیح نے رسالہ " تجلی " (لاہور) میں پیغام صلح کی نسبت سخت زہر افشانی کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نعوذ باللہ فسادی قرار دے کر یسوع کی تعریف میں لکھا کہ وہ صلح کا شہزادہ تھا اور اس نے دشمنی کا لفظ ہی لغت سے کاٹ دیا ہے۔الله الله اخبار "المجدد" کی مضحکہ خیز تنقید تو محض مخالفت برائے مخالفت تھی۔باقی رہا آریہ اخبار کا مخالفت کرناتو وہ اپنے بارودی مزاج اور فطرت ثانیہ کے اعتبار سے نیش زنی پر مجبور تھے۔چنانچہ رسالہ ” انوار الاسلام " سیالکوٹ نے لکھا۔” جو مبارک پیغام ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی اختلافات کو مٹانے کے لئے لکھا تھا وہ گو صلح جو اہل ہنود میں ایک عمدہ تحریک پیدا کر رہا ہے مگر آریہ سماج کے پلیٹ فارم سے