تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 216
تاریخ احمدیت جلد ۳ 208 احمد بیت میں نظام خلافت کا آغا -۲- درخواست مولوی محمد علی صاحب پیش ہوئی کہ کچھ مساکین کا کھانا حضرت اقدس نے لنگر خانہ سے بند کر کے ان میں سے بعض کے لئے لکھا ہے کہ مجلس انتظام کرے پیش ہو کر قرار پایا کہ اب حسب احکام حضرت خلیفتہ المسیح الموعود لنگر کی حالت دگرگوں ہو گئی ہے اس لئے اس کاغذ کو داخل دفتر کیا جاوے۔شیخ غلام احمد صاحب سے متعلق درخواست ( تقرر واعظ ) حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں بھیجوائی جائے۔دور خلافت اولیٰ کے آغاز میں ہی حضرت خلیفتہ المسیح نے بیت المال کا ایک بیت المال کا قیام مستقل محکمہ قائم فرمایا۔اور حکم دیا کہ آئندہ مد زکوۃ کو صیغہ صدقات سے الگ کر کے صیغہ بیت المال میں شامل کیا جاوے۔یعنی زکوۃ کا روپیہ بھی بیت المال میں آیا کرے اور اس کے لئے مناسب قواعد تجویز کئے جائیں۔قادیان میں پہلی پبلک لائبریری کا قیام حضرت سید نا محمود ایدہ اللہ تعالٰی نے مخالفین کے جواب کے بعد دوسرا اہم کارنامہ یہ سرانجام دیا کہ آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح اول کے مشورہ سے انجمن " تشخیذ الاذہان" کے زیر انتظام وسط ۱۹۰۸ء میں ایک پبلک لائبریری قائم کی۔لائبریری کے لئے حضرت خلیفہ اول نے کتابیں بھی دیں اور چندہ بھی دیا۔حضرت ام المومنین نے ایک وسیع مکان اس کے لئے بنوا کر دیا۔خود حضرت صاحبزادہ صاحب نے ایک بڑی رقم اس مد میں عنایت فرمائی علاوہ ازیں حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ ، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت میر محمد اسحق صاحب۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے بھی چندہ دیا۔شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔مفتی محمد صادق صاحب اور مید عبدالحی عرب نے کتابیں دیں۔شیخ صاحب نے تو کتابوں کے علاوہ الحکم کے فائل بھی دئے۔صدر انجمن احمدیہ نے اپنے کتب خانہ کی قابل فروخت کتابوں کا ایک ایک نسخہ دے دیا۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے احباب نے مدد دی۔اس طرح قادیان میں پہلی پبلک لائبریری کا قیام عمل میں آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ اہل بیت کے اخراجات کا الہام الہی کے مطابق انتظام السلام کے وصال کے بعد آپ کے اہل بیت اور خاندان کے لئے خدا تعالیٰ نے کیسے انتظام فرمایا اس کی تفصیل میں حضرت سیدنا محمود خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں۔”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات بھی ہوئی۔مگر ہمارے لئے مشکل یہ تھی کہ ہم سمجھتے ہی نہ تھے کہ آپ وفات پا جائیں گے۔