تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 212 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 212

تاریخ احمدیت جلد ۳ 204 احمدیت میں عظام خلافت کا آغاز لکھنے کی ضرورت کچھ نہیں۔مگر میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ اس ناگہانی حادثہ کا آپ کے دل پر کیا صدمہ ہوا ہو گا۔" ۲۰ مخالفین احمدیت کی منتظم یورش اور اس کی روک تھام حضرت اقدس" کے وصال پر احمدیت کی مخالف طاقتیں ایک بار پھر پوری قوت و طاقت سے ابھر آئیں اور وہ لوگ جنہیں اس شیر خدا کے سامنے ایک لمحہ ٹھرنے کی جرات نہ تھی۔وہ اس کی آنکھیں بند ہوتے ہی اپنی فتح و نصرت کے شادیانے بجاتے ہوئے میدان مقابلہ میں آگئے اور احمدیت کے پودا کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے ناخنوں تک کا زور لگانے اور خوف و ہراس پھیلانے لگے جس کا مختصر سا نقشہ ہم ذیل میں لکھتے ہیں:۔قادیان سے اخراج کا پراپیگنڈا۔اس سلسلہ میں مخالفین کی طرف سے انتہائی زہریلا پراپیگنڈا یہ کیا گیا۔کہ معاذ اللہ حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب اپنے بھائیوں سے الجھ کر ان کو اور دوسرے احمدیوں کو قادیان سے نکال پھینکنے کو ہیں۔حالانکہ یہ محض جھوٹ اور افترا تھا۔جس کی پر زور تردید میں خود حضرت صاحبزادہ صاحب کو پیسہ اخبار میں ایک مفصل نوٹ شائع کرنا پڑا۔جس میں آپ نے تحریر فرمایا۔" قادیان کی جماعت خدا کے فضل و کرم سے بمقابلہ میرے ہزار ہا درجہ نیک اور متقی عامل شریعت عاشق رسول عربی ہے۔قرآن ان کے ہاتھوں میں ہے اور درودان کی زبان پر۔شب بیدار اور پر ستار خدائے لایزال ہیں۔اور میرے اعمال خود آپ جانتے ہیں۔کیا ہیں؟ باوجود ان اعمال کے ایسی جماعت کی مخالفت کر سکتا ہوں لوگ انہیں کافر سمجھیں اور قابل دار لیکن وہ مجھ سے صد درجہ نیک اور قابل عزت ہیں اور میں ان کو مسلمان سمجھتا ہوں۔" احمدیوں کے ارتداد کی انو ہیں :۔احمدیوں کو مشوش کرنے کے لئے ایک حربہ استعمال کیا گیا کہ کثرت سے مرزائی لوگ تائب ہو کر بیعت کر رہے ہیں۔" یہ پراپیگنڈا پیر سید جماعت علی شاہ صاحب کے مریدوں نے کیا۔اس سلسلہ میں ایک مہم یہ شروع کی گئی کہ بعض احمدیوں کے نام پر خطوط بھی شائع کرائے گئے جن سے لوگوں کو احمدیت کے خلاف غلط فہمیاں پھیلانا اور بد ظن کرنا مقصود تھا۔چنانچہ اخبار "وطن" اور اخبار "وکیل" میں کئی گندے اور شرافت سے دور خطوط شائع کئے گئے اور خواجہ غلام الثقلین بی۔اے ایل ایل بی نے " عصر جدید میں ایک احمدی کا فرضی مکالمہ شائع کیا۔اور لکھا کہ قادیانی تحریک ختم ہو گئی ہے۔انجمن حمایت اسلام اور دوسری انجمنوں کے جلسے:۔حضرت کی وفات پر ملک کے طول و عرض میں علماء نے احمدیت کے خلاف ہر جگہ زہر اگلنا شروع کر دیا تھا۔خصوصاً لاہور میں جہاں