تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 210 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 210

تاریخ احمدیت جلد ۳ معلوم ہو 202 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز ||A| تا ہے۔اور دنیا خالی خالی نظر آتی ہے میں لوگوں میں چلتا پھرتا اور کام کرتا ہوں مگر پھر بھی یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی چیز باقی نہیں رہی۔نیز اپنے دوسرے خدام سے اکثر فرماتے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرے کندھوں پر ایک بھاری بوجھ رکھ دیا گیا ہے جس سے میں دیا جاتا ہوں۔ابتدائے خلافت میں آپ اکثر وقت اندر خلوت میں رہتے۔دعاؤں میں بہت مصروف ہو گئے۔بلکہ دعا کے واسطے ایک علیحدہ کمرہ بنوا دیا گیا تھا۔اس وقت آپ کی دن کی نشست گاہ مسجد مبارک میں ہوتی تھی۔مگر چونکہ بیمار بھی آپ کی توجہ کے محتاج ہوتے تھے اور بیماروں کا مسجد میں جمع ہو نا مناسب نہ تھا۔اس لئے کچھ وقت بعد اپنے مطب میں بیٹھنا شروع کر دیا۔حضرت میر محمد اسمعیل کا خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کی وجہ سے جماعت احمدیہ اور خاندان مسیح موعود علیہ حضرت ام المومنین کے نام السلام ایک گہرے صدمہ سے دو چار تھے۔لیکن خلافت کے قیام سے مطابق وعده وليبد لنهم من بعد خوفهما منا جماعت کی بہت ڈھارس بندھ گئی۔حضرت مسیح موعود کے افراد خاندان کس طرح حضور کے وصال کے حادثہ عظمی کے باعث غم و اندوہ میں مبتلا تھے۔اور پھر انہوں نے کس طرح صبر و تحمل کا نمونہ پیش کیا۔اس کا اندازہ حضرت سید میر محمد اسمعیل صاحب کے ایک خط سے ہوتا ہے۔جو انہوں نے روجہان ضلع ڈیرہ غازی خاں سے اپنی غم رسیده بہن حضرت سیدۃ النساء ام المومنین کے نام اپنے مخصوص عارفانہ انداز میں لکھا۔آپ نے تحریر فرمایا :- حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کی خبر وحشت اثر معلوم ہو کر جو صدمہ ہوا اس کے بیان کی ضرورت نہیں پر ساتھ ہی میرا تو یہ حال ہے کہ میں لکھتا جاتا ہوں اور اعتبار نہیں آتا کہ یہ واقعہ سچ ہے دل کو یقین ہی نہیں آتا یا یہ کہو دل یقین کرنا نہیں چاہتا۔مگر جو امر ہو نا مقدر تھاوہ ہوا۔اس میں کسی انسان اور فرشتے کا دخل نہیں۔آج تک نہ کوئی انسان موت سے بچا نہ بچے گا۔تمام پیمبر انبیاء بزرگ پیر صاحب کرامات خدا کے پیارے غرض بڑے بڑے رتبے والے حتی کہ سب کے سردار محمد مصطفى او تک نے چند روزہ زندگی بسر کر کے اس جہاں سے رحلت کی۔۔انبیاء اور اولیاء کی موت ایسی نہیں ہوتی کہ مرتے وقت ان کو کوئی کاوش یا ہم و حزن ہو۔بلکہ وہ ان کو دنیا سے بشارت اور دائی برکت اور رحمت کے ساتھ لے جاتی ہے۔اور وہ لوگ جس طرح ایک بھو کا بچہ دیر کے بعد اپنی ماں کی گود میں ہمک کر جاتا ہے۔اسی طرح اپنے رب سے وصال پاتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لئے اس کے طرح طرح کے افضال اور الطاف کے مورد بنتے ہیں پس موت کا وارد ہوتا اس !