تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 197 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 197

تاریخ احمدیت جلد ۳ 189 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز اور اس پر جماعت کے سب ہی اکابر کے دستخط ثبت تھے۔| A حضرت خلیفۃ المسیح اول کی پہلی تقریر احباب جماعت کی درخواست سننے کے بعد حضرت مولوی صاحب نے کھڑے ہو کر کلمہ شهادت و استعاذہ کے بعد آیت ولتكن منكم امة يدعون الى الخير ويامرون بالمعروف و ينهون عن المنکر پڑھی اور فرمایا۔میں اللہ کی تعریف کرتا ہوں جو ابدی اور ازلی ہمارا خدا ہے۔ہر ایک نبی جو دنیا میں آتا ہے اس کا ایک کام ہوتا ہے جو کرتا ہے۔جب ہو چکتا ہے۔خدا تعالٰی اس کو بلا لیتا ہے۔حضرت موسیٰ کی نسبت یہ بات مشہور ہے کہ وہ ابھی بلاد شام میں نہیں پہنچے تھے کہ رستہ ہی میں فوت ہو گئے۔حضرت نبی کریم نے قیصر و کسری کی کنجیوں کا ذکر فرمایا کہ مجھے دی گئیں ہیں مگر آپ نے وہ کنجیاں (چاہیاں) نہ دیکھیں کہ چل دئے ایسی باتوں میں اللہ تعالیٰ کے مخفی اسرار ہوتے ہیں۔یہاں بھی بہت سے لوگ تعجب کریں گے کئی پیشگوئیاں کی تھیں وہ ابھی پوری نہیں ہو ئیں میرے خیال میں یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ بتدریج کام کرتا ہے۔اور پھر جسے مخاطب کرتا ہے کبھی اس سے مراد اس کا مثیل بھی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔اس کے بعد فرمایا :۔"میری پچھلی زندگی میں غور کر لو۔میں کبھی امام بننے کا خواہشمند نہیں ہوا۔مولوی عبد الکریم مرحوم امام الصلوة بنے تو میں نے بھاری ذمہ داری سے اپنے تئیں سبکدوش خیال کیا تھا۔میں اپنی حالت سے خوب واقف ہوں اور میرا رب مجھ سے بھی زیادہ واقف ہے میں دنیا میں ظاہر داری کا خواہشمند نہیں۔میں ہرگز ایسی باتوں کا خواہشمند نہیں۔اگر خواہش ہے تو یہ کہ میرا موٹی مجھ سے راضی ہو جائے۔اس خواہش کے لئے میں دعائیں کرتا ہوں۔قادیان بھی اس لئے رہا اور رہتا ہوں اور رہوں گا۔میں نے اس فکر میں کئی دن گزارے کہ ہماری حالت حضرت صاحب کے بعد کیا ہو گی۔اس لئے میں کوشش کرتا رہا کہ میاں محمود کی تعلیم اس درجہ تک پہنچ جائے۔حضرت صاحب کے اقارب میں اس وقت تین آدمی موجود ہیں (یعنی صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب۔میر ناصر نواب صاحب ه - نواب محمد علی خان صاحب ناقل۔۔۔اس وقت مردوں بچوں عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وحدت کے نیچے ہوں اور اس وحدت کے لئے ان بزرگوں میں سے کسی کی بیعت کر لو۔میں تمہارے ساتھ ہوں۔میں خود ضعیف ہوں بیمار رہتا ہوں پھر طبیعت مناسب نہیں۔اتنا بڑا کام آسان نہیں۔پس میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جن عمائید کا نام لیا ہے۔ان میں سے کوئی منتخب کر لو۔میں تمہارے ساتھ بیعت کرنے کو تیار ہوں۔اگر تم میری بیعت ہی کرنا چاہتے ہو تو سن لو بیعت بک