تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 179
اریخ احمدیت۔جلد ۳ " 175 آغا ز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک مجھے دیندار اور سعادت مند اولاد کی ضرورت ہے۔مجرد اولاد کی حاجت نہیں۔" مارچ ۱۹۰۸ء کے دو سرے ہفتہ میں آپ نے احباب جماعت کے سامنے مجمع الاخوان کا قیام ایک اہم دینی تحریک رکھی جسکا حل یہ تھاکہ کوئی ایسا امتیازی نشان مقر کیا جائے کہ ۴ سب تعاونوا علی البر کا مصداق بن کر خدائی فضلوں کے جذب و نزول کا موجب ہوں۔کوئی ایسی تدبیر نکل آوے کہ عربی زبان احمدیوں میں خصوصاً اور مسلمانوں میں عموماً رائج ہو جاوے کہ یہی ذریعہ مسلمانان عالم کے عالمگیر اتحاد کا ہے۔اور اسی پر قرآن و حدیث کا فہم و اور اک منحصر ہے۔جہاں جہاں احباب میں باہمی رنجش و کدورت دیکھیں وہاں یہ اصحاب صلح کرا دیں۔ہر عسر دیسر میں باہمی مشوروں اور دعاؤں سے کام لیں۔تائید اسلام میں چھوٹے چھوٹے پمفلٹوں کا سلسلہ جاری کیا جائے۔آپ نے اس سلسلہ میں اسکندریہ اور مصر تک خطوط لکھے کہ کس طرح عربی تعلیم اور تقریر و تحریر میں ترقی ہو سکتی ہے۔ایه تحریک " مجمع الاخوان " کی شکل میں قائم ہو گئی۔خطبہ جمعہ میں آیت استخلاف کا ذکر ۱۳ مارچ ۱۹۰۸ء کے خطبہ جمعہ کے دوران میں آپ نے آیت استخلاف کا ذکر کر کے فرمایا۔رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کے دین کے بچے خادموں جو صحابہ اولیاء اصفیاء اتقیاء اور ابدال کے رنگ میں آئے اور قیامت تک آتے رہیں گے بوجہ ان کے حسن خدمات کے جن کی وجہ سے انہوں نے بعد رسول اکرم ہم پر بہت بڑے بھاری احسانات اور انعامات کئے ان کے واسطے بھی دعا کرے۔خدا تعالٰی فرماتا ہے کہ جو کوئی اس گروہ پاک کی مخالفت کرے گا۔اور اس کو نظر عزت سے نہ دیکھے گا اور ان کے احکام اور فیصلوں کی پروا نہ کرے گا تو وہ فاسق ہو گا بلکہ وہاں تک جہاں تک تعظیم الہی اور تعظیم کتاب اللہ اور تعظیم رسول اللہ اجازت دیتی ہو اس گروہ کا ادب و عزت اور اس خیل پاک کے حق میں دعائیں کرنے کا حکم قرآن شریف سے ثابت ہے "۔الحکم ۳۰ مارچ ۱۹۰۸ء) کے ذریعہ آپ نے قرآن مجید قرآن سیکھنے کی ایک مجرب راہ سیکھنے کا ایک ایسا لطیف طریق بنایا جو آپ کا پوری عمر کا تجربہ شدہ تھا اس طریق کا خلاصہ یہ تھا کہ قرآن مجید کے پانچ دور کئے جائیں۔پہلے دور میں انسان ایک مترجم قرآن مجید کا تخلیہ میں مطالعہ کرے اس کے لفظوں پر غور کرے اور