تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 178
تاریخ احمدیت جلد ۳ 174 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک ہمارے نبی کریم ﷺ کو عطا ہو اس سے یہ تو ثابت نہیں ہو سکتا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ حضرت ابراہیم سے کمتر درجہ پر ہیں۔بلکہ اس سے تو ان کے اعلیٰ مدارج کا پتہ لگتا ہے۔چونکہ درود شریف پڑھنا ایک نیک کام ہے اور یہ ایک حکم ہے کہ جو کوئی نیکی سکھاتا ہے۔تو اس کو بھی اس قدر ثواب پہنچا ہے۔جس قدر کہ سیکھ کر عمل کرنے والے کو اس لئے دنیا میں جس قدر لوگ نمازیں پڑھتے ہیں۔اور عبادتیں کرتے ہیں ان سب کا ثواب ہمارے نبی کریم ﷺ کو بھی پہنچتا ہے۔اور ہر وقت پہنچتا ہے۔لا کیونکہ زمین گول ہے اگر ایک جگہ فجر ہے تو دوسری جگہ عشاء ہے ایک جگہ عشاء ہے تو دوسری جگہ شام ہے ایسے ہی اگر ایک جگہ ظہر کا وقت ہے تو دوسری جگہ عصر کا ہو گا۔غرض ہر گھڑی اور ہر وقت ہمارے نبی کریم ﷺ کو ثواب پہنچتا رہتا ہے۔دنیا میں کرو ڈور کروڈ رکوع اور سجدہ کرتے اور درود پڑھتے اور دوسری دعائیں مانگتے ہیں اور پھر اس کے علاوہ دوسرے احکام پر چلتے روزے رکھتے زکو تیں ادا کرتے ہیں اس لئے ماننا پڑے گا کہ قرآن میں محمد رسول اللہ الله کو بھی ان عبادات کا ثواب پہنچتا رہتا ہے کیونکہ اسی نے تو یہ باتیں سکھائی ہیں۔کہ تم لوگ نمازیں پڑھو۔زکو تیں دو۔اور مجھ پر درود بھیجو۔اور پھر محمد رسول اللہ ﷺ کی اپنی روح جو دعائیں مانگتی ہوگی وہ ان کے علاوہ ہیں۔اب تم سوچ سکتے ہو کہ جب سے مسلمان شروع ہوئے اور جب تک رہیں گے ان سب کی عبادتیں ہمارے نبی کریم ﷺ کے نامہ اعمال میں بھی ہونی چاہئیں۔اس لئے ماننا پڑے گا کہ وہ دنیا کی کل مخلوقات کا سردار ہے کیونکہ اس کے اعمال تمام دنیا سے بڑھے ہوئے ہیں کیونکہ جو کوئی مسلمان نیکی کرے گا۔۔وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے نامہ اعمال میں ضرور لکھی جائے گی۔اور اس سے ثابت ہو تا ہے کہ وہ تمام رسولوں نبیوں اور اولیاؤں کا بھی سردار ہے کیونکہ دنیا میں جس قدر رسول گذرے ہیں ان کی امتیں ان کے لئے دعائیں نہیں کرتیں۔مگر ہمارے نبی کریم ا کے لئے ان کی امت دن رات دعائیں مانگتی رہتی ہے۔اور ہمارے نبی کریم ﷺ کا تمام نبیوں اور تمام مخلوق سے بڑھ کر ہونے کا یہ ایک ثبوت ہے۔" ہے۔۸ فروری ۱۹۰۸ء کو حضرت مولوی صاحب کے ہاں ولادت میاں عبد الوہاب الوہاب صاحب ایک اور بچہ پیدا ہوا جس کا نام حضرت اقدس مسیح موعود نے عبد الوہاب رکھا اور فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص موہت ہے۔اخبار الحکم نے یہ خوشی کی خبر شائع کرتے ہوئے لکھا۔”حضرت حکیم الامت وقف علہی کے ایک خاص اور زندہ نمونہ ہیں۔میرے کانوں میں وہ الفاظ اب تک گونجتے ہیں جو ایک اشتہاری طبیب کے اولاد نرینہ کے لئے علاج کرنے کی تحریک پر آپ نے فرمائے تھے۔