تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 177
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 173 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک جس میں حضور بھی مدعو تھے۔حضور نے ایک مضمون لکھ کر حضرت مولوی صاحب کے سپرد فرمایا کہ وہ جلسہ میں سنادیں نیز فرمایا کہ اس وقت اگر مولوی عبد الکریم صاحب بھی زندہ ہوتے تو بھی میں مولوی صاحب ہی کو ترجیح دیتا۔اور یہ بھی فرمایا کہ مولوی عبد الکریم صاحب مولوی صاحب ہی کے شاگرد اور خوشہ چین تھے "۔چنانچہ آپ نے پوری بلند آواز سے یہ لیکچر پڑھا۔لیکچر کا ایک ایک لفظ دلوں پر اثر کر تا تھا اور جب آپ قرآن مجید کی کوئی آیت پڑھتے تو مجلس میں وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی چنانچہ ایک معزز غیر احمدی دوست نے صاف کہا کہ مولوی صاحب کی تلاوت قرآن مجید تو سخت سے سخت دلوں کو بھی ہلا دینے والی ہے۔درود شریف کے فلسفہ پر لطیف روشنی قیام لاہور کے دنوں میں کسی شخص نے سوال کیا کہ تکمیل دین کے بعد تم لوگ درود شریف میں کیا مانگتے ہو۔اور جو مانگتے ہو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کم درجہ پر کیوں مانگتے ہو۔(کما صلیت علی ابراهیم اس سوال کا آپ نے جو لطیف اور مسکت اور مدلل جواب دیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ یاد رکھو ایک خدا کا فضل ہوتا ہے اور ایک تکمیل دین ہوتی ہے خدا کے فضل محدود نہیں ہوتے کیونکہ اللہ تعالی خود غیر محدود نہیں۔درود شریف پڑھنے کے اور بھی کئی فوائد ہیں۔خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا نقشہ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا کہ وہ ایسی بلند شان والی قادر و توانا ہستی ہے کہ سب انبیاء و ر سول ہر وقت اس کے محتاج ہیں۔خدا تعالی کا غناظا ہر ہو گا۔کہ سارا جہان اس سے سوال کرتا رہے مگر اس کے خزانے ختم نہیں ہو سکتے۔اپنے نبی کریم ﷺ کی نسبت یہ اعتقاد ہو جائے گا کہ وہ بھی خدا کے ہر آن محتاج ہیں خدائی کے مرتبہ پر پہنچے اور نہ پہنچیں گے۔بلکہ عبد کے عبدہی رہیں گے۔مگر خدا تعالی کا فیضان ان پر ہمیشہ ہو تا رہتا ہے اور ہو تا رہے گا۔ود شریف پڑھنے والا اس ذریعہ سے آنحضرت اللہ کے ساتھ اس ترقی میں شریک رہے وروو گا۔سوال کے دوسرے حصہ کا جواب آپ نے مندرجہ ذیل وجد آفرین الفاظ میں دیا۔”ہمارے نبی کریم ﷺ حضرت ابراہیم کی آل میں بھی داخل ہیں اور صلوۃ بھیجنے والا چاہتا ہے کہ جس قدر برکات اور انعامات الہیہ حضرت ابراہیم اور اس کی اولاد پر ہوئے ہیں ان سب کا مجموعہ