تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 172
احمد بیت - جلد ۳ 168 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس موقعہ پر مدرسہ تعلیم الاسلام میں ایک حافظ قرآن مقرر کیا جائے جو قرآن مجید حفظ کرائے فرمایا میرا بھی دل چاہتا ہے اللہ تعالی جو چاہے گا کرے گا۔ان دنوں تعلیم الاسلام کالج نیا نیا بند ہوا تھا جس کا آپ کو بہت صدمہ تھا۔اس لئے حضرت عرفانی صاحب کی تحریک پر آپ نے کالج فنڈ میں ایک سو روپیہ بھی عطا فرمایا۔حرم اول کی وفات حضرت مولوی صاحب کی زوجہ کلاں جن کا نام فاطمہ تھا۲۸ جولائی ۱۹۰۵ء بروز جمعہ اس دار فانی سے رحلت کر گئیں ان کو حضرت مسیح موعود علیہ / السلام کے ساتھ کچا اخلاص و ایمان تھا اور اکثر کہا کرتی تھیں کہ یہ مولوی صاحب کا احسان ہے کہ ہم نے خدا کے مسیح کو پہچان لیا۔لیکن اب تو میرے دل میں خدا کے رسول کی اس قدر محبت ہے کہ خواہ کوئی پھر جائے میں تو آپ سے علیحدہ نہیں ہو سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عصر کے بعد بہت دوستوں کے ساتھ ان کا باہر میدان میں جنازہ پڑھا اور قادیان کے شمال مشرقی جانب کے قبرستان میں سپرد خاک کی گئیں۔اسی رات حضور نے دربار شام میں ان کا ذکر کیا اور فرمایا۔وہ مجھے ہمیشہ کہا کرتی تھیں کہ میرا جنازہ آپ پڑھا ئیں اور میں نے دل میں پختہ وعدہ کیا ہوا تھا کہ کیساہی بارش یا آندھی وغیرہ کا وقت ہو میں ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔آج اللہ تعالٰی نے ایسا عمدہ موقعہ دیا۔کہ طبیعت بھی درست تھی اور وقت بھی صاف میسر آیا اور میں نے خود جنازہ پڑھایا۔" میاں عبد السلام صاحب کی ولادت میاں عبد القیوم صاحب کی وفات پر نادان مخالفوں نے بہت شور اٹھایا تھا سو اللہ تعالی نے ان کی خوشیوں کو پامال کرنے کے لئے ۲۵/ دسمبر ۱۹۰۵ء کو ایک اور فرزند عطا فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے کثیر خدام کے ساتھ مسجد اقصیٰ میں نماز ظہر پڑھنے کے لئے بیٹھے تھے کہ آپ کو یہ خوش خبری ملی آپ نے اس مولود مسعود کے لئے دعا کی اور عبد السلام نام رکھا۔2 انجمن کار پرداز مصالح قبرستان حضرت اقدس نے اللہ تعالی کی بشارت اور حکم کے تحت دسمبر ۱۹۰۵ ء میں بہشتی مقبرہ کی بنیاد رکھی اور اس مقبرہ کے آمد و خرچ کے لئے ایک انجمن کار پرداز مصالح قبرستان بھی بنائی۔اور حضرت مولوی صاحب کو اس کے چندوں کا امین مقرر فرمایا۔چنانچہ "الوصیت " میں اس کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ