تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 167 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 167

163 آغاز اجرت سے حضرت مسیح موجود کے وصال مبارک تک کھولا اور چوما۔یہ خدا کا فضل ہے اور خوشی کا مقام ہے کہ کسی سنت کے پورا کرنے کا موقعہ عطا ہو۔پھر فرمایا خدا نے ہم کو کیسا رسول عطا کیا کہ وہ ہر حالت میں ہمارا غمگسار ہے اور ہر حال میں ہم کو خوشی دینے والا ہے۔" صاجزادہ صاحب کی وفات کے بعد آپ کی خدمت میں کثرت سے تعزیت نامے موصول ہوئے تو آپ نے الحکم اور بدر میں احباب کے نام ایک کھلا خط لکھا کہ خطوط تعزیت نے مجھ پر خصوصیت سے محبت بڑھانے کا اثر کیا ہے مگر آپ لوگوں پر دینی اخراجات کا ایک بڑا بوجھ ہے جو روز افزوں ہے اس لئے ” میری درخواست ہے کہ بجائے اس کے کہ مجھے ایسے خطوط لکھے جائیں آپ صاحبان ان خرچوں کو جمع کر کے دینی کاموں میں لگا دیں یہ میرا ولی جوش ہے اور مجھے ڈر ہے کہ ایسے اخراجات کہیں اسراف میں داخل نہ ہوں۔" ۵۷ れ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مخلص فدائی خانصاحب محمد خان صاحب سفر کپور تھلہ احمدی افسر بگھی خانہ سرکار کپور تھلہ بیمار تھے۔جن کے علاج کے لئے حضرت مولوی نور الدین صاحب حضور کے ارشاد پر ۴/ اکتوبر ۱۹۰۳ ء کی صبح کو قادیان سے کپور تھلہ کے لئے روانہ ہوئے اور ۷ / اکتوبر ۱۹۰۳ء کو واپس تشریف لائے۔کپور تھلہ میں آپ کی تشریف آوری پر ایک جلسہ بھی ہوا۔جس میں مختلف مذاہب و مذاق کے سر بر آوردہ لوگ شامل ہوئے۔اس تقریر دلپذیر میں آپ نے ایک نئے اور اچھوتے انداز میں ہر قسم کے مکتب فکر کے لوگوں کو تبلیغ فرمائی اور اپنی زندگی کے دلچسپ واقعات اور مثالیں دے دے کر لوگوں کی روحانی تشنگی بجھائی۔Y• اکتوبر ۱۹۰۳ء میں میاں عبد الرحیم خاں ( خالد بار ایٹ لاء مالیر میاں عبدالرحیم خاں کا علاج کو دہ) سخت بیمار ہو گئے اور حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ان کا علاج کیا۔آخر جب زمینی علاج میں کامیابی نہ ہوئی اور زندگی کے آثار منقطع ہونے لگے تو آسمانی طلب نے اپنا کام کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا و توجہ سے آپ کو اعجازی رنگ میں شفا ہو گئی۔فونوگراف میں وعظ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب ایک فونوگراف قادیان لائے تھے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب کا بھی اس میں ایک مختصر و عظ ریکارڈ کیا گیا۔جس میں آپ نے سورۃ العصر کی لطیف تغییر فرماتے ہوئے اس کے مطالب پر غور کرنے کی تلقین