تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 166 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 166

تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 162 آغاز اجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک نوبت نہ آسکی اور صرف ایک پارہ آپ کی زندگی میں شائع ہو سکا جیسا کہ آگے ذکر آرہا ہے۔ملک پر طاعون کا زور دار حملہ شروع تھا اور خدا نے "الدار" کی حفاظت کا الدار" میں قیام خاص طور پر وعدہ کر رکھا تھا اس لئے حضرت مولوی صاحب بھی دوسرے / مخلصین کے ساتھ " الدار ہی میں قیام پذیر ہو گئے اور جب تک یہ وبا کم نہیں ہوئی یہیں رہے۔اخبار البدر کی قلمی معاونت الحکم کے بعد سلسلہ کا دوسرا مرکزی اخبار ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو "البدر" کے نام سے نکلنا شروع ہوا۔تو آپ نے احکم کی طرح اس اخبار کی بھی زور شور سے قلمی اور مالی اعانت شروع کر دی جو آخر دم تک جاری رہی۔البدر میں ابتداء آپ کے بعض قیمتی نسخوں کی بھی اشاعت ہوتی تھی۔مگر اخبار البدر کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے حضرت مسیح موعود کے ملفوظات کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفتہ المسیح اول کے کلمات طیبات کو بھی زیادہ تفصیل کے ساتھ محفوظ کر دیا۔حق کے مخالفوں کی عجیب حالت ہوتی ہے جب کوئی قابل ایک الزام کا عارفانہ جواب اعتراض بات نہیں ملتی تو جھوٹی اور بے اصل خبریں اڑانا شروع کر دیتے ہیں ایک مرتبہ معاندین سلسلہ نے یہ مشہور کر دیا کہ آپ نے معاذ اللہ سلسلہ سے قطع تعلق کر لیا ہے۔مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے اس خبر کی بابت حضرت مولوی صاحب سے استفسار کیا جس پر آپ نے چند لفظوں میں یہ جواب لکھا " و من اظلم ممن افترى على الله كذبا ا و کذب بایاته - نور الدین نے تو مرزا کی آیات دیکھ لئے کہ وہ منجاب اللہ ہے پس اگر وہ ان آیات کا مکذب ہے تو اس سے ظالم ترکون ہے۔مگر وہ بجھ اللہ ظالم نہیں اور اسی پر اعتقاد ہے۔" ۲۲ / ستمبر ۱۹۰۳ء کو حضرت مولوی صاحب کے مشکوئے صاحبزادہ عبد القیوم کی ولادت معلی میں حضرت صغری بیگم صاحبہ کے بطن سے دوسرا عبد القیوم پیدا ہوا۔صاحبزادہ صاحب ۱۲ / اگست ۱۹۰۵ء کو قبل دو پہر وفات پاگئے۔نماز جنازہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی شامل ہوئے۔مگر پیش امام آپ کو ہی بنایا۔دفن سے پہلے آپ نے اپنے بچے کا منہ کفن سے کھولا اور بوسہ دیا اور آپ کی آنکھیں پر آب تھیں اور فرمایا میں نے بچہ کا منہ اس واسطے نہیں کھولا تھا کہ مجھے کچھ گھبراہٹ تھی بلکہ اس واسطے کہ سنت پوری ہو۔آنحضرت کا بیٹا ابراہیم جب فوت ہوا تھا تو آنحضرت ﷺ نے اس کا منہ چوما تھا اور آپ کے آنسو بہہ نکلے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور فرمایا کہ جدائی تو تھوڑی دیر کے لئے بھی پسند نہیں ہوتی پر ہم خدا کے فعلوں پر راضی ہیں۔اسی سنت کو پورا کرنے کے واسطے میں نے بھی اس کا