تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 165
تاریخ احمدیت جلد " 161 آغاز اجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک آپ نے ۲۹/ مارچ کو اس کے جواب میں ایک مفصل خط لکھا کہ ترقی و فلاح کی اصل راہ وہ نہیں جو اس وقت مسلمانوں کے خود ساختہ مصلح پیش کر رہے ہیں بلکہ وہ ہے جس پر ہمارے امام و مقتداء نے اللہ تعالی کے الہام سے ہمیں چلایا ہے۔سرسید والا الہام نہیں۔مکالمہ اللہ والا الهام۔نیز توجہ دلائی کہ مسلمان اگر قرآن مجید کو صحیح معنوں میں اپنا دستور العمل بنا لیتے ہیں تو ان کو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے مقابل آسمانی نشانات و آیات عطا ہو تیں۔مگر موجودہ دنیا میں مسلمان کو غیر مذاہب پر کوئی امتیاز نہیں رہا۔۲۷ / د کمبر ۱۹۰۰ ء کی صبح کو جب کہ احباب ۲۷/ ۲ دسمبر ۱۹۰۰ء کو ایک واعظانہ تقریر جلسہ کے لئے جمع تھے آپ نے مسجد اقصیٰ میں قرآنی حقائق و معاروف سے لبریز تقرر فرمائی۔جو الحکم کی کئی قسطوں میں شائع ہوئی۔اس وعظ کا ایک اقتباس بطور نمونہ درج کیا جاتا ہے۔فرمایا۔"۔۔۔۔یاد رکھو جب تک قرآن پر عمل نہ ہو گا۔یہ ادبار اور تنزل جو مسلمانوں کے شامل حال ہے ہر گز دور نہ ہو گا۔مگر قران پر عمل کرنے کے واسطے قرآن کا فہم ضروری ہے اور فہم بدون تقویٰ کے آ نہیں سکتا۔اور تقویٰ ہو نہیں سکتا جب تک مجاہدہ نہ ہو۔مجاہدہ ممکن نہیں جب تک اخلاق فاضلہ نہ ہوں۔اور اخلاق فاضلہ کے حاصل کرنے کے واسطے امام کے حضور رہنا ضروری ہے۔پس یہاں آؤ اور امام کے حضور رہ کر اس بات کے حاصل کرنے کی فکر کرو۔جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو مبعوث فرمایا ہے۔- ولادت سیدہ امتہ الحئی صاحبہ یکم اگست ۱۹۰۱ء کو حضرت مولوی صاحب کے ہاں صاحبزادی امتہ الحی صاحبہ تولد ہو ئیں جو ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفتہ اصبح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے حرم میں شامل ہو ئیں۔حضرت مولوی صاحب نے اپنی یاداشت میں اپنے قلم سے ان کی تاریخ ولادت لکھی تھی جس کا عکس یہ ہے۔اردو ترجمه قرآن مجید حضرت مولانا نے ایک عظیم الشان کارنامہ ان ایام میں یہ سرانجام دیا کہ قرآنی مزاج اور روح کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ نے قرآن مجید کا مکمل ترجمہ فرمایا۔اور اسے چھپوانے کے لئے مجلس منتظمہ مدرسہ تعلیم الاسلام کے سپرد فرمایا۔جس کے سیکرٹری اس وقت مولوی محمد علی صاحب تھے۔مگر افسوس انجمن کی طرف سے اس کی اشاعت کی