تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 164
اریخ احمدیت۔جلد ۳ 160 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک صدقت میں چند رویا ء دیکھے جو حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں بغرض اشاعت ارسال کئے چنانچہ آپ نے ان کی خواہش کے مطابق الحکم میں چھپوا دیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام قبر مسیح کی تحقیق کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے تعیین کی طرف ایک وفد بھیجوانا چاہتے تھے۔اس وفد کے امیر مرزا خدا بخش م م وند نصیبین صاحب کے اخراجات سفر حضرت مولوی نورالدین صاحب نے اپنے ذمہ لے لئے۔وفد کی روانگی کے سارے انتظامات مکمل ہو گئے اور ۱۲/ نومبر ۱۸۹۹ء کو مسجد اقصیٰ میں ان کے ۴۵ الوداع میں ایک جلسہ بھی ہوا۔جس میں بیرو نجات سے بہت سے احمدی احباب شریک ہوئے اور بزرگان سلسلہ میں سے حضرت مولوی نور الدین صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی تقریریں بھی ہو ئیں مگر افسوس کہ حکومت افغانستان کی طرف سے بعض مشکلات پیش آجانے کے سبب وفد کو رک جانا پڑا۔ایک کافی عرصہ بعد حضور کے بعض خدام مثلا شیخ محمود احمد صاحب عرفانی اور سید امجد علی شاہ صاحب کو نصیین جانے کا اتفاق ہوا۔مگر انہیں قلت وقت اور محدود ذرائع کے باعث وہاں جا کر حضرت مسیح کے سفر کا کھوج لگانے میں کوئی خاص کامیابی نہیں ہو سکی۔حضرت مولوی صاحب نے ۲۴ / مارچ ۱۹۰۰ء کو ایک اعلان قومی ضرورتوں کی طرف توجہ فرمایا جس میں احباب جماعت کو بروقت بعض مرکزی اور - قومی ضرورتوں کی طرف توجہ دلائی مثلا نو مسلموں کا انتظام۔نوجوانوں کی تعلیم کا انتظام۔غرباء اور مسافروں اور قیموں کی مختلف ضروریات کا انتظام۔ہجرت کی خواہش کرنے والوں کے لئے مکانات کا انتظام وغیرہ۔اس اعلان میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جماعت میں واعظ بہت کم ہیں۔اس لئے واعظوں کی ایک جماعت کا تیار کرنا بھی ضروری ہے جو متنازعہ مسائل پر بحث و تمحیص کر سکیں۔اعلان کی اشاعت سے قبل آپ نے عید الاضحیہ کے موقعہ پر دوستوں سے مشورہ بھی فرمایا۔یہ تحریک وقت کے تقاضوں کے عین مطابق تھی اور بہت پسند کی گئی اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اجازت دیدی۔چنانچہ اس غرض کے لئے با قاعدہ آمد و خرچ کے الگ رجسٹر کھول دیئے گئے۔علامہ شبلی نعمانی (۶۱۸۵۷ - ۱۹۱۴ء) نے علامہ شبلی نعمانی مرحوم سے خط و کتاب "دائره التالیف" کے نام سے ایک اشتہار دیا تھا۔جس میں اخوان الصفا کی طرز پر مضامین لکھنے اور شائع کرنے کا ارادہ ظاہر کر کے اسے وقت کی بہت بڑی ضرورت بتا یا علامہ صاحب نے یہ اشتہار اور ایک مسودہ اپنے خط سے منسلک کر کے حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں بھیجوایا اور ان کے متعلق آپ کی رائے دریافت کی۔