تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 159
تاریخ احمدیت جلد ۳ 155 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک بڑی ضروریات کا خیال بھی بڑی فیاضی اور سیر چشمی سے رکھتے تھے۔کچھ عرصہ آپ کا قیام شہر میں رہا بعد ازاں شیروانی کوٹ میں منتقل ہو گئے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مد ظله العالی تحریر فرماتی ہیں۔کہ حضرت خلیفہ اول شیروانی کوٹ کے اوپر کے چوبارہ پر رہے تھے جو زنانہ حصہ اور زنانہ پورچ کی جانب تھا۔شیروانی کوٹ میں ہر طرح کا انتظام تھا گھوڑا گاڑی بھی آپ کی ضرورت کے لئے تیار رہتی تھی۔اکتو بریا نو مبر میں آپ واپس قادیان تشریف لائے اور جلسہ مذاہب عالم میں شمولیت کے بعد دوبارہ جنوری ۱۸۹۷ء میں مالیر کوٹلہ پہنچ گئے۔ابھی سال چھ ماہ اور حضور کی اجازت سے آپ کو ٹھہرانا تھا۔کہ مارچ ۱۸۹۷ء میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی ولادت کے باعث حضرت ام المومنین کی طبیعت علیل ہو گئی اور آپ کو بذریعہ تار واپس قادیان کو بلوا لیا گیا۔قیام مالیر کوٹلہ کے دوران جو واقعات پیش آئے ان میں سے بعض کا بالا ختصار تذکرہ کیا جاتا ہے۔(1) حضرت مولوی صاحب سے حضرت نواب صاحب نے قریباً چھ ماہ میں قرآن شریف ختم کر لیا تھا۔حضرت نواب صاحب شہر سے شیروانی کوٹ جاتے اور قرآن مجید پڑھتے اور دوپہر کا کھانا آپ کی معیت میں تناول کر کے واپس تشریف لے جاتے تھے۔(۲) حضرت مولوی صاحب نے قادیان کی طرح یہاں بھی درس و تدریس کا سلسلہ جاری کر رکھا تھا اور آپ کے شاگردوں کے علاوہ دوسرے بہت سے لوگ اس سے استفادہ کرتے تھے اور اس طرح احمدیت کی بھاری تبلیغ ہوتی تھی۔(۳) حضرت نواب صاحب کا چونکہ شیعہ خاندان تھا اور ویسے بھی خوجہ شیعوں کا زور تھا۔اس لئے مالیر کوٹلہ میں عام شیعہ اصحاب کے علاوہ ان کے بعض مجہتدین سے آپ کے بڑے بڑے معرکے ہوئے۔(۴) میاں عبدالرحیم خاں صاحب خالد جو اکتوبر ۱۹۰۳ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا سے معجزانہ طور پر شفایاب ہونے کے باعث آیت اللہ میں سے ہیں۔آپ کی موجودگی میں ۱۳۔۱۴/ جنوری ۱۸۹۷ء کو پیدا ہوئے تھے پیدائش کے بعد میاں صاحب سخت بیمار ہو گئے اور حضرت مولوی صاحب نے بہت توجہ سے ان کا علاج کیا۔دسمبر ۱۸۹۶ء کے آخر میں جلسہ اعظم مذاہب کا عظیم الشان جلسہ جلسہ اعظم مذاہب لاہور منعقد ہوا جس میں سیدنا حضرت مسیح موعود کا مضمون خدائی بشارت کے مطابق سب مضمونوں پر بالا رہا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے بھی اس میں شمولیت