تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 151
تاریخ احمدیت جلد ۳ 147 آغاز اجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک قادیان میں دینی مشاغل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں حضرت مولوی صاحب کے علاوہ چونکہ علم و تقویٰ کے مقام میں جماعت کا کوئی دو سرا فرد آپ کا ہمسر و ہم پلہ نہیں تھا اور حضرت مسیح موعود کے فیض صحبت میں رہنے کی وجہ سے آپ کو ایک خاص امتیازی اور مرکزی حیثیت حاصل تھی۔اس لئے حضرت مسیح موعود کے بعد اپنے اور بیگانے اپنے مسائل و معاملات میں آپ ہی کی طرف رجوع کرتے تھے بلکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فقہی مسائل کے جواب کے لئے دوستوں کو آپ کی طرف بھجواتے۔حضور کی اپنی بیماری یا اہل بیت یا دوسرے خدام کی بیماریوں میں آپ کو دوا دینے کا ارشاد ہو تا۔حضرت اقدس جو کتاب تصنیف فرماتے اس کے لئے مختلف حوالہ جات کی فراہمی اور پروف ریڈنگ کے کام میں بھی آپ حضور کا ہاتھ بٹاتے تھے۔پھر دربار شام اور سیر اور سفر میں اکثر آپ کو حضور کے ساتھ ہونے کا موقعہ ملتا تھا۔آپ کی قادیان کی زندگی کا ایک پہلو یہ تھا کہ آپ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقدس اور مبشر اولاد کو قرآن مجید بخاری اور دینیات پڑھاتے تھے خصوصاً حضرت سید نا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تو خاص طور پر آپ سے یہ علوم سیکھے تھے چنانچہ سید نا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ خود ہی فرماتے ہیں۔مجھے اللہ تعالی نے قرآن کریم کے علوم سے بہت کچھ دیا ہے۔۔۔مگر اس فضل کے جذب کرنے میں حضرت استاذی المکرم مولوی نور الدین صاحب خلیفہ المسیح اول" کا بہت سا حصہ ہے میں چھوٹا تھا اور بیمار رہتا تھا۔وہ مجھے پکڑ کر پاس بٹھا لیتے تھے اور اکثر یہ فرماتے تھے کہ میاں تم کو پڑھنے میں تکلیف ہوگی میں پڑھتا جاتا ہوں تم سنتے جاؤ اور اکثر اوقات خود ہی قرآن پڑھتے اور خود ہی تفسیر بیان کرتے۔اس کے علوم کی چاٹ مجھے انہوں نے لگائی اور اس کی محبت کا شکار بانی سلسلہ احمدیہ نے بنایا۔بہر حال وہ عاشق قرآن تھے اور ان کا دل چاہتا تھا کہ سب قرآن پڑھیں۔مجھے قرآن کا ترجمہ پڑھایا اور پھر بخاری کا اور فرمانے لگے لو میاں سب دنیا کے علوم آگئے ان کے سوا جو کچھ ہے یا زائد یا ان کی تشریح ہے۔" اس کے علاوہ بہت سے مشاغل و مصروفیات جاری رہتیں جن کا آج ہم پوری طرح اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔غرضکہ آپ کی زندگی نہایت درجہ معمور الاوقات زندگی تھی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب مختصرا ان مشاغل پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔" آپ صبح سویرے بیماروں کو دیکھتے تھے۔اس کے بعد طالب علموں کو درس حدیث و طبی کتب دیتے تھے۔مثنوی شریف اور حضرت مسیح موعود کی کتب کا درس بھی گا ہے دیتے تھے اور بعد نماز عصر روزانه درس قرآن شریف دیا کرتے تھے۔مہمانوں کی امانتیں اپنے پاس رکھتے تھے۔غرباء کی امداد کا