تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 152 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 152

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 148 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک خیال رکھتے تھے اور تمام احمدیوں کو اچھے کاموں کے کرنے اور بدیوں سے بچنے کی نصیحت کرتے رہتے تھے۔اور باہر سے آنے والے خطوط کا جو متعلق مسائل دینیه و طبیہ ہوتے تھے جواب لکھتے اور لکھاتے رہتے تھے۔آپ کی عادت تھی کہ صبح سے شام تک بلکہ اکثر عشاء تک سوائے نمازوں کے اوقات کے ایک ہی جگہ اپنی نشست گاہ میں بیٹھے رہتے تھے۔جس میں صرف چٹائی بچھی ہوتی تھی۔اور آپ کے واسطے کوئی الگ مسند نہ ہوتی تھی۔ہر طرح کے حاجتمند آتے تھے اور آپ سے مستفیض ہوتے رہتے تھے۔ایک کھلا دربار ہو تا تھا۔جس پر کبھی کوئی دربان مقرر نہ ہوا۔اندر زمانہ میں عموماً صبح کے وقت آپ عورتوں میں بھی درس قرآن شریف دیا کرتے تھے۔جب تک آپ کے شاگر درشید اور رفیق و انیس حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب زندہ رہے وہ مسجد مبارک میں پنج وقت نماز اور جمعہ کی امامت کراتے تھے اور مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ پڑھاتے تھے حضرت مولانا عبد الکریم کے وصال کے بعد آپ پانچ نمازیں اور جمعہ ان مساجد میں پڑھاتے رہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوه والسلام تشریف لے جا سکتے تھے۔اور عموماً سب نمازیں مسجد مبارک میں ہوا کرتی تھیں آپ کی عادت باہر سیر کے واسطے جانے کی نہ تھی۔لیکن گا ہے حضرت مسیح موعود آپ کو اپنے ساتھ سیر کے واسطے باہر لے جایا کرتے تھے۔جب قادیان میں کالج قائم ہوا تو آپ اس میں عربی پڑھاتے رہے۔صدر انجمن احمدیہ کے آپ پریذیڈنٹ تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ ”مولوی صاحب کی رائے انجمن میں سورائے کے برابر سمجھنی چاہئے۔" قادیان میں آپ کے گزارے کی صورت بظاہر طب کے سوائے اور کچھ نہ تھی مگر آپ کے خانگی اخراجات مهمان نوازی بیتامی و مساکین کی پرورش دینی چندوں میں سب سے بڑھ کر حصہ لینا۔ان سب پر معقول رقم خرچ ہوتی تھی اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ رقوم کہاں سے آتی تھیں فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے میری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔اور مجھے رزق من حيث لا يحتسب عطا کر تا رہتا ہے۔آپ کی کوئی ایسی ضرورت نہ ہوتی تھی۔جو پوری نہ ہو جائے اور غیب سے اس کے واسطے سامان بن نہ جائے "۔دوسروں کو ہجرت کی تحریک ہجرت کے چندہ ماہ بعد آپ نے اپنے ایک مخلص دوست مخدوم محمد صدیق صاحب جو ان دنوں کوٹ احمد خاں ( متصل میانی ) میں رہتے تھے۔ایک خط میں لکھا۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ میں بمقام قادیان بخدمت ملازمت حضرت مرزا صاحب خوش و خرم ہوں۔دل چاہتا ہے آپ