تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 144 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 144

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 140 حواشی لیکن حیوان بول نہیں سکتا۔فرمایا طوطا بھی بولتا ہے کیا وہ بھی انسان ہے۔شیخ محمد عبد اللہ نے جو ان دنوں ٹھاکر داس تھے کہا۔انسان دوسرے انسان کو پڑھا سکتا ہے۔حیوان نہیں پڑھا سکا فرمایا یہ کچھ پسند کی بات ہے جو تم نے کسی ہے۔واقعی انسان اور حیوان میں یہ فرق ضرور ہے۔کہ انسان جو بات خود سیکھ سکتا ہے وہ دوسروں کو بھی سکھا سکتا ہے۔لیکن حیوان اگر کچھ خود سیکھ سکتا ہے تو دوسرے حیوانوں کو سکھا نہیں سکتا۔چنانچہ طوطا جو بات خود سیکھ سکتا ہے کسی دوسرے طوطے کو نہیں سکھا سکتا۔فرمایا لیکن اس کے سوا کوئی اور بات بھی انسان اور حیوان کے فرق کی ہو تو بتاؤ۔لڑکوں کی خاموشی کے بعد مولوی نور الدین صاحب مرحوم نے خود ہی فرمایا۔انسان اور حیوان میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ انسان اپنی حالت بدل سکتا ہے لیکن حیوان نہیں بدل سکتا۔ایک آدمی کا باپ اگر جاہل ہے تو بیٹا عالم ہو سکتا ہے۔لیکن ایک نبیل کا بچہ بیل ہی رہے گا۔ایک بکرا جیسے کہ آج سے سو سال قبل تھا۔آج اس کی اولاد بھی اسی کی طرح ویسا ہی ایک بکرا ہے۔چند دنوں کے بعد حکیم مولوی نور الدین صاحب ہی کی تحریک سے آپ نے طلب پڑھنے کا شوق ظاہر کیا اور حکیم صاحب نے میاں نظام الدین وزیر اعظم سے ذکر کیا۔میاں نظام الدین جب شام کو مکتب میں آئے تو انہوں نے آپ سے مخاطب ہو کر کہا۔سنا ہے تم طب پڑھنا چاہتے ہو۔پونچھ میں کوئی طبیب نہیں ہے۔اگر کوئی لڑکا یہ علم پڑھ سکے۔تو اس کے لئے بہت اچھا ہو گا ان الفاظ سے آپ کو حصول طب کا اور زیادہ شوق ہو گیا۔آپ نے ایک دو ابتدائی کرتا ہیں پونچھ ہی میں حکیم صاحب سے پڑھیں چونکہ وہ عارضی طور پر نکہ بلدیو سنگھ کے علاج کے لئے آئے ہوئے تھے اس لئے حکیم صاحب نے فرمایا کہ اگر تم ہمارے ساتھ جموں چل سکو تو ہم طب کی تمام کتابیں تم کو پڑھا دیں گے۔آپ کے والدین آپ کو روانگی کی اجازت نہ دیتے تھے لیکن اس خیال سے کہ میاں نظام الدین وزیر اعظم پونچھ میں ایک ماہر طبیب کی ضرورت ظاہر کرتے ہیں اور وہ ضرور قدردانی فرما ئیں گے انہوں نے آپ کو حکیم صاحب کے ہمراہ جموں جانے کی اجازت دے دی۔جموں جاتے ہی آپ تیسری جماعت میں داخل ہو گئے ان ایام میں مولوی عبد الکریم کا شمیری سیالکوئی مرحوم حکیم نور الدین صاحب مرحوم کے پاس جموں میں مقیم تھے انہوں نے دو ہی ماہ کے اندر آپ کو اتنی انگریزی پڑھادی کہ آپ پانچویں جماعت میں داخل ہو گئے۔اردو فارسی میں آپ کو اچھا ملکہ تھا۔آپ کو ذہین وز کی دیکھ کر ماسٹر اندر نرائن اور ماسٹر نکند لال نے سکول ٹائم کے علاوہ انگریزی پڑھانا شروع کر دی۔اور سالانہ امتحان آپ نے کامیابی سے دیا۔کہ چھٹی جماعت کی بجائے آپ کو ساتویں جماعت میں داخل کر لیا گیا۔لیکن ساتھ ہی ماسٹر نکند لال نے حکیم مولوی نور الدین کے ہاں آنے جانے اور وہاں کے قیام سے منع کر دیا۔آپ نے کہا کہ میں وہاں طب پڑھنے کے لئے ٹھرا ہوا ہوں۔اور اسی غرض سے گھر سے نکلا ہوں۔ان دنوں دیوان امرناتھ گورنر جموں تھے اور راجہ امر سنگھ کا جو مہاراجہ سرپرتاب سنگھ کے چھوٹے بھائی تھے بڑا زور تھا۔اور مولوی نور الدین راجہ امر سنگھ کے نہایت معتمد مشیر تھے۔اس لئے ان پر یکا یک حملہ کرنا بہت دشوار تھا۔تاہم لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ یہ لڑکا مولوی نور الدین کے اثر سے ضرور مسلمان ہو جائے گا۔مہاراجہ پر تاپ سنگھ تک آخر یہ بات پہنچائی گئی کہ مولوی نور الدین ایک ہندو لڑکے کو مسلمان کرنے کی فکر میں ہیں۔چنانچہ مہاراجہ صاحب کے حکم سے دیوان امر ناتھ نے آپ کو بلا کر کہا کہ مہاراجہ صاحب کا حکم ہے کہ آج سے حکیم صاحب کے مکان پر نہ جایا کرو یہ جب تک تمہارے والد یا رشتہ دار نہ آئیں تم پنڈت مند لال کے مکان پر رہا کرو۔چنانچہ اس کے بعد جب تک آپ جموں رہے پنڈت نند لال کے مکان پر ہی رہے۔مولوی حکیم نور الدین آپ کے مربی اور محسن تھے۔ان کی جدائی آپ کو بہت شاق گذری۔ایک دو مرتبہ اس واقعہ کے بعد ان سے چوری چھپے ملاقات بھی ہوئی لیکن ان دشواریوں اور مجبوریوں کی وجہ سے آپ نے جنوں ہی کی رہائش کو ترک کر دینا مناسب سمجھا۔ان پریشانیوں اور تکلیفوں کے باوجود آپ جماعت میں سب سے اول رہتے تھے اور جب کہ کوئی شخص باہر سے ریاست کا یہ واحد ہائی سکول دیکھنے آتا تھا تو استاد اور پرنسپل اپنے لڑکوں میں سے بطور مثال آپ کو پیش کیا کرتے تھے۔آپ کو اب مدرسہ سے وظیفہ بھی ملنے لگا تھا۔اور یہ بھی کہا گیا کہ ریاست تم کو اپنے خرچ پر لاہور میں بی۔اے کی تعلیم دلائے گی۔لیکن آپ جموں سے پہلے پونچھ اپنے گھر چلے گئے۔وہاں ایک ماہ قیام کیا۔پھر جنہوں جانے کی بجائے سیدھے لاہور آگئے اور گورنمنٹ ہائی سکول (واقعہ حویلی راجہ دھیان سنگھ) میں داخل ہو گئے۔اور ایک ہی سال ۱۸۹۱ء میں آپ نے انٹرنس کا امتحان