تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 141 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 141

تاریخ احمدیت جلد ۳ 137 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک مشیت میں کھینچے چلے جاتے ہیں تا جو کچھ ہمارے اندر ہے ظاہر ہو جاوے۔اس عاجز کا پہلا خط جس میں ایک دو الهام درج ہیں شاید پہنچ گیا ہو گا۔والسلام۔خاکسار غلام احمد از قادیان ۱۳/ ستمبر ۳۱۶۱۸۹۲ انجمن حمایت اسلام کے جلسہ ۱۸۹۳ء میں پر معارف لیکچر حضرت مولوی صاحب نے اوائل 41] ۱۸۹۳ء میں انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسہ میں شرکت فرمائی اور بصیرت افروز لیکچر بھی دیا یہیں آپ سے مشہور مسلم مشنری مولوی حسن علی صاحب مو نکھیری کی ملاقات بھی ہوئی۔مولوی حسن علی صاحب آپ کے لیکچر اور ملاقات کا واقعہ اس طرح تحریر فرماتے ہیں۔۱۸۹۳ء میں انجمن حمایت اسلام لاہور کے سالانہ جلسے میں مجھ کو شریک ہونے کا اتفاق ہوا۔یہاں پر میں اس عالم و مفسر قرآن سے ملا۔جو اپنی نظیر اس وقت سارے ہند کیا بلکہ دور دور تک نہیں رکھتا۔یعنی حکیم مولوی نورالدین صاحب سے ملاقات ہوئی۔میں ۱۸۸۷ء کے سفر پنجاب میں بھی حکیم صاحب ممدوح کی بڑی تعریفیں من چکا تھا۔غرض حکیم صاحب نے انجمن کے جلسے میں قرآن مجید کی چند آیتیں تلاوت کر کے ان کے معنی و مطالب کو بیان کرنا شروع کیا۔کیا کہوں اس بیان کا مجھ پر کیا اثر ہوا۔حکیم صاحب کا وعظ ختم ہوا اور میں نے کھڑے ہو کر اتنا کہا کہ مجھ کو فخر ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے اتنے بڑے عالم اور مفسر کو دیکھا اور اہل اسلام کو جائے فخر ہے کہ ہمارے درمیان اس زمانے میں ایک ایسا عالم موجود ہے۔۔۔میری خواہش تھی کہ جناب مولوی حکیم نورالدین صاحب سے ملاقات کرتا لیکن مولوی صاحب از راه کرم خود اس خاکسار سے ملنے آئے میں نے ان سے تنہائی میں سوال کیا کہ مرزا صاحب سے جو آپ نے بیعت کی ہے اس میں کیا نفع دیکھا ہے؟ جواب دیا کہ ایک گناہ تھا جس کو میں ترک نہیں کر سکتا تھا۔جناب مرزا صاحب سے بیعت کر لینے کے بعد وہ گناہ نہ صرف چھوٹ ہی گیا بلکہ اس سے نفرت ہو گئی جناب مولوی حکیم نورالدین صاحب کی اس بات کا مجھ پر ایک خاص اثر ہوا۔" ar قادیان کی طرف مستقل ہجرت او پر یہ ذکر آچکا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے بھیرہ میں ایک عالی شان عمارت شروع کر رکھی تھی۔جس پر سات ہزار روپے صرف ہو چکے تھے۔ابھی یہ عمارت نا تمام ہی تھی کہ آپ کسی ضرورت کے سبب لاہور تشریف لائے۔یہ ۱۸۹۳ء کی پہلی سہ ماہی کے قریب کا واقعہ ہے۔لاہور آکر آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا خیال آیا اور آپ قادیان تشریف لے گئے۔اس ایمان افروز واقعہ کا ذکر آپ نے ایک دفعہ درس قرآن کے دوران میں بایں الفاظ فرمایا۔میں یہاں قادیان میں صرف ایک دن کے لئے آیا اور ایک بڑی عمارت بنتی چھوڑ آیا حضرت