تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 137
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 133 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک اخبار ” چودھویں صدی ( راولپنڈی) کا انکشاف اخراج ریاست کے محرکات و عوامل پر ہم اپنی تحقیق پوری سے لکھ چکے ہیں اب ہم اخبار ” چودھویں صدی " (۲۳/ جولائی ۱۸۹۵ء) کا ایک نہایت درجہ اہم مضمون بعنوان "مسلمانان کشمیر کی حق تلفی کا اصلی سبب " درج کرتے ہیں۔جس سے ہمارے اس نظریہ کی حرف بحرف تصدیق ہوتی ہے کہ کونسل کے زمانہ میں مسلمانوں کو ریاست بد ریا ملازمت سے بر طرف کرنے کی منظم سازش کی گئی تھی۔اور حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول ای کا اخراج بھی اسی سازش کی ایک کڑی تھی۔جموں اور کشمیر کی حکومت میں مہاراجہ گلاب سنگھ کا زمانہ تو ایک نہایت پر آشوب زمانہ تھا ان کے زمانہ حکومت سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔البتہ مہاراجہ رنبیر سنگھ صاحب کا عہد حکومت ایک پر امن زمانہ تھا اور طرز حکومت کی ایک مستقل بناء پڑ گئی تھی۔اور ہر ایک قسم کی ترقیاں ہوئیں تھیں۔جو سب سے بڑی خوبی مہاراجہ رنبیر سنگھ صاحب کی حکومت میں تھی وہ یہ تھی کہ وہ اپنی رعایا کے ہر ایک فرقہ کے ساتھ ان کے حقوق کے مقدار کے مطابق سلوک کرنے کی طرف مائل رہتے تھے اپنی مسلمان رعایا سے بھی ایسی ہی الفت رکھتے تھے جیسی ہندو رعایا ہے۔اور اگر چہ ان کے نزدیک ہندو اور مسلمانوں میں ان کی رعایا ہونے کے اعتبار سے باہم کوئی فرق نہ تھا لیکن ایسا معلوم ہو تا تھا کہ وہ مسلمانوں کو اپنی ملازمت میں رکھنا زیادہ پسند کرتے تھے۔اس سبب سے اچھے اچھے اور جلیل القدر عہدوں پر اکثر مسلمان ملازم دکھائی دیتے تھے۔اور ادنی ملازمت میں بھی بے شمار مسلمان تھے اس وقت ہمارے پاس کوئی فہرست تو اس زمانہ کے ملازموں کی نہیں ہے لیکن ہم حافظہ سے بہت سے نام گنا دے سکتے ہیں (اس کے بعد بارہ مسلمانوں کے نام لکھ کر تیرھواں نام آپ کا لکھا یعنی ”مولوی نور الدین صاحب حکیم اعلیٰ " اور آپ کے بعد چند مزید لکھنے کے بعد تحریر کیا) مولوی نور الدین صاحب حکیم اعلیٰ وغیرہ جیسے بزرگ اور قدیم اور ہر دل عزیز عہدہ دار کی نسبت صرف یہ امر قابل بیان ہے کہ ان کے نکالنے کے واسطے گاؤ کشی کا الزام تجویز کیا گیا تھا۔کیونکہ اور کوئی بہانہ نہیں مل سکتا تھا۔" تاریخ کا یہ حصہ یقیناً نا تمام رہے گا اگر میں یہ نہ بتاؤں کہ حضرت مولوی صاحب کے اخراج کے باوجود راجہ رام سنگھ نے اسلام سے تعلق و رابطہ اور زیادہ استوار کر کے کوشش شروع کر دی تھی کہ اسلامی ریاستوں سے تعلق قائم کر کے کشمیر کو انگریزی اقتدار سے آزاد کرا لے مگر افسوس انگریزوں نے اس کے ان عزائم کو بھانپ کر اسے زہر دے دیا۔