تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 125
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ میں جمع کرا دیں۔" 121 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک حضرت مسیح حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھیروی آپ کی شاگردی میں موعود کی واپسی کے معا بعد قریبی ایام میں ہی مفتی محمد صادق صاحب کو آپ کے والد جموں لائے اور حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں چھوڑ کر وطن چلے گئے چنانچہ حضرت مفتی صاحب کی روایت ہے کہ پورے طور پر جو میرا تعلق حضرت (مولوی صاحب۔ناقل) سے شروع ہوا۔وہ ۱۸۸۸ء کے ابتدائی مہینوں میں تھا۔جب کہ میرے والد مرحوم باوجود اس ضعف و علالت و پیری کے جو اس وقت ان کے شامل حال تھی مجھے بھیرہ سے جموں لے گئے۔۔۔آپ انہیں ایام میں سخت بیماری بخار اور شدید سردرد سے شفایاب ہوئے تھے اور کمزوری کے آثار ہنوز آپ کے چہرہ پر نمودار تھے۔چہرہ کا رنگ زردی مائل ہو رہا تھا۔اس خط کے بعد حالات نے کچھ ایسا پلٹا حضرت مولوی صاحب کی شادی لدھیانہ میں کھایا کہ آپ کی برادری میں جو سلسلہ جنبانی ہو رہا تھا وہ بوجوہ قائم نہ رہ سکا۔جن کی تفصیل کا ہمیں کوئی علم نہیں اس لئے اب خود حضرت مسیح موعود نے کئی جگہ خطوط روانہ کئے اور بالاخر منشی احمد جان صاحب کی صاحبزادی صغری بیگم صاحبہ سے رشتہ کی تجویز پختہ ہو گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام معہ حضرت خلیفہ اول اور دیگر احباب شادی کی برات میں لدھیانہ تشریف لائے۔اور بعد نکاح مع دلہن واپس تشریف لے گئے یہ ۷ / مارچ ۱۸۸۹ء سے قبل کا واقعہ ہے۔لدھیانہ کی بیعت اولیٰ میں شرکت حضرت مولوی صاحب نے ایک عرصہ سے حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کر رکھا تھا کہ جب حضور کو بیعت کا اذن ہو تو سب سے پہلی بیعت آپ کی لی جائے۔چنانچہ حضور نے یہ درخواست منظور فرما لی۔ازاں بعد جب حضور کو خدا کی طرف سے بیعت کا حکم ملا تو حضور نے آپ کی بیعت سے پہلے استخارہ کا ارشاد فرمایا جس کا طریق حضور نے یہ بتایا۔اول دو رکعت نماز پڑھیں پہلی رکعت میں قل بیایھا الكافرون دوسری رکعت میں قل ھو اللہ پھر التحیات کے بعد نماز ہی میں یہ دعا پڑھیں۔سات روز استخارہ کریں اگر ہر نماز کے بعد استخارہ ہو تو بہتر ہے۔ورنہ عشاء کے بعد تو ضرور چاہئے۔