تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 120
تاریخ احمدیت جلد ۳ 116 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک دوسرے ساتھی اس کی بدولت ارتداد سے بچ گئے اور کہا کہ اب ہم سچے دل سے مسلمان ہو گئے باقی دو جلدوں کی اشاعت کی ضرورت نہیں۔بعض جوں نے آپ کو اس کی اشاعت پر مبارک باد بھی دی۔یہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی کے علاوہ انجمن حمایت اسلام اور بک ڈپو وکیل ٹریڈنگ کمپنی امرتسر میں بکثرت فروخت ہوئی اور اس پر نہایت عمدہ تبصرے شائع کئے گئے ذیل میں ہم مولوی سید محمد علی صاحب کانپوری کا تبصرہ درج کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں۔اس عمدہ کتاب میں پر جوش تحریر کے ساتھ اکثر نئی تحقیق کا دریا موجزن ہے اسلام کی خوبی کو مختصر طور سے خوب دکھایا ہے۔اور غالبا عیسائیوں کے کل اعتراضوں کے جواب الزامی اور تحقیقی خوش اسلوبی سے دیتے ہیں۔اور نبوت سرور انبیاء اور ضرورت قرآن مجید کو عمدہ طرز سے ثابت کیا ہے " خدمت دیں کے لئے ملازمت سے استعفیٰ کا فیصلہ حضرت اقدس علیہ السلام کے ارشاد کی تعمیل میں آپ نے اپنے اخلاص فدائیت اور عقیدت میں صرف فصل الخطاب" کے مجاہدہ پر ہی بس نہیں کی۔بلکہ آپ نے ملازمت سے استعفیٰ دے کر حضور کی خدمت میں چلے آنے کا قصد کر لیا۔حضرت اقدس علیہ السلام کو جب اس کا علم ہوا تو حضور نے مشورہ دیا کہ ملازمت سے علیحدگی ہر گز اختیار نہ کریں۔لیکن حضرت مولوی صاحب استعفیٰ دے چکے تھے۔چونکہ خدا کی جناب میں آپ کا ریاست میں رہنا اس کی مصالح کے لحاظ سے ضروری تھا اور حضرت اقدس کی دلی خواہش بھی یہی تھی اس لئے آپ کا استعفیٰ ریاست سے منظور ہی نہیں ہوا۔اور آپ عرصہ تک ریاست میں ہی بیٹھ کر اپنے آقاد مرشد کی روحانی رفاقت کا حق ادا کرتے رہے چنانچہ حضور کی خدمت میں نہایت، اخلاص بھرے الفاظ میں لکھا۔"۔مولانا- مرشد نا- امامنا السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ عالی جناب میری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور امام زمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا وہ مطالب حاصل کروں۔اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفیٰ دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑار ہوں۔یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاؤں اور اسی راہ میں جان دوں۔میں آپ کی راہ میں قربان ہوں میرا جو کچھ ہے۔میرا نہیں آپ کا ہے۔حضرت پیر و مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔اگر خریدار براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں تو مجھے اجازت فرمائیے کہ یہ ادنی خدمت بجالاؤں کہ اس کی تمام قیمت ادا کر