تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 118
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 114 فرو مین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک ۱۳۸- الحکم ۲۲/ اپریل ۱۹۰۸ء صفحه ۲-۳ ۱۳۹- کمکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحہ ۱۔آ پر آپ کے نام حضرت مسیح موعود کا پہلا خط ۱۸ مارچ ۱۸۸۵ء کا ہے جس سے یہ تخمینہ لگایا گیا ہے۔۱۳۰ بدر ۱۰ / اکتوبر ۱۹۱۲ ء صفحہ ۳ کالم ۱۔حضرت خلیفہ اول نے نہایت روح پر اور الفاظ میں اپنے پہلے سفر قادیان اور زیارت مسیح موعود کا جو واقعہ ر تم فرمایا ہے وہ تاریخ احمدیت حصہ دوم میں آچکا ہے۔۱۳۱ کلام امیر صفحہ 18 کالم۔۱۴۳ آئینہ کمالات اسلام صلحه ۵۸۱-۵۸۳ ۱۳۳- الزامی جواب علم مباحثہ میں اس دلیل کو کہتے ہیں جو صرف فریق مخالف کے عقیدہ پر مبنی ہوتی ہے جو اب دینے والا اس کا قائل نہیں ہوتا۔اس کی ایک دلچسپ مثال حضرت شاہ عبد العزیز کے ایک واقعہ سے ملتی ہے لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک پادری صاحب شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کیا کہ کیا آپ کے پیغمبر خدا کو پیارے ہیں آپ نے فرمایا ہاں وہ کہنے لگا تو پھر انہوں نے قتل حسین کے وقت فریاد کی یا یہ فریاد سنی نہ ملی۔شاہ صاحب نے فرمایا کہ حضور نے فریاد تو کی تھی۔لیکن انہیں جواب آیا کہ تمہارے نواسے کو قوم نے ظلم سے شہید کیا۔ہے لیکن ہمیں اس وقت اپنے بیٹے ٹھیٹی کا صلیب پر چڑھنا یاد آرہا ہے۔(رود کوثر صفحه ۵۶۸ اشاعت سوم از شیخ محمد اکرام ایم۔اے۔۱۳۴- الحکم ۳۳ / اپریل ۱۹۰۸ء صفحه ۳ کالم ۳