تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 113
تاریخ احمدبیت، جلد ۳ 109 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک مولویوں کی ایک نہ مانی اور ڈٹا رہا۔حضرت مولوی صاحب نے اس تعاون پر اس کو تنور والی جگہ ہی نہ کر دی جو اب بھی اس کے بیٹوں کے قبضہ میں ہے اور جب حضرت خلیفہ اصسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نومبر ۱۹۵۰ء میں بھیرہ تشریف لے گئے تو ایک روٹی اس تنور کی آپ کی خدمت میں بھی پیش کی گئی جو حضور نے بڑی خوشی سے تناول فرمائی۔مرقاة الیقین صفحہ ۱۳۳-۱۳۵ پر اس سلسلہ میں ایک واقعہ ملاحظہ ہو۔جس میں آپ کے چکرم داس شاہپور خوشاب سے ہوتے پر ہوئے سیکیسر جانے کا ذکر ہے جو بھیرہ سے ساٹھ میل کے فاصلہ پر ہے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح سکیسر تک کا ماحول علماء نے آپ کے خلاف مسموم کر دیا تھا۔۴۷- مرقاة الیقین صفحه ۱۸۲ -۴۸- عوامی ذہن ان دنوں کس درجہ خراب ہو چکا تھا اس کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ قصبہ کے حجام تک آپ کا مذاق اڑانے میں بیباک ہو گئے تھے چنانچہ حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں ” میری شادی تھی مفتیوں کے محلہ میں وہاں جراح رہتے تھے۔میرا بیاہ تھاوہ آتے رہتے تھے ایک نے مجھ سے کچھ نسی کی میں نے کہا کہ تم بڑے جاہل ہو اس نے کہا کہ کیا تو ہمار انتاج نہیں ہے۔کبھی خون نہ نکلوانا ہو گا۔میں نے کہا کہ میں نکلواؤں گا ہی نہ بلکہ یہ تمہارا کام ہی چھڑا دو نگا میاں شیخ احمد صاحب نے مجھے کہا کہ یہ لوگ آپ سے ناراض ہو جائیں گے اور طب کے کام میں مشکل پڑے گی۔" بدر ۲۰ مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۳ کالم (۳) بدر ۱۷/ اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ ۸ کالم۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا مسلک توحید کو اہلحدیث کے سب سے زیادہ قریب تھا مگر معروف اصطلاح سے آپ اہا حدیث کبھی نہیں ہوئے اس لئے آئمہ کی محبت کی رو سے آپ کو " حنفی اہل حدیث " کہا جائے تو بے جانہ ہو گا۔۵۰ اخبار بدر۱۷/ اپریل ۱۹۱۳ء صفحه ۸ ۵۱ - مرقاة الیقین صفحه ۱۲۴ ۵۲ بروایت فضل الرحمان صاحب بھیرہ (غیر احمدی) ۵۳ مرقاة الیقین صفحه ۱۵ ۵۴۔یہ مسجد جو مکان کے بالکل متصل تھی اب غیر احمدیوں کے قصہ مں سے تھر مگر ماہت خوبصورت مسجد ہے حضرت کے رہائش کا کمرہ اوپر تھا اور کتا بیں نچلی منزل میں ہوتی تھیں (کلام امیر حصہ دوم صفحہ 41 کالم ۲) ۵۵ - الحکم ۱۹۰۵ء نمر ۲۱ صفحه ۱ ۵۲- خط حضرت خلیفہ اول بنام مخدوم محمد صدیق صاحب ( اصل خط جناب مخدوم بشیر احمد صاحب بھیرہ اور جناب مخدوم محمد ایوب صاحب بی۔اے صدر جماعت احمدیہ میانی کے پاس محفوظ ہے۔ایضا مرقاۃ الیقین ۱۲۵۔-02 یہ سرے سرمہ نگاری اور سرمہ مبارک وغیرہ ناموں سے مشہور ہیں۔۵۸ مرقاة القین صفحه ۱۲۵-۱۲۶۔۵۹ مثلا ڈاکٹر فیض قادر صاحب کے پاس ان کے والد جناب ملک قادر بخش صاحب کی طبی بیاض میں ! ! حافظ احمد دین صاحب کی طبی بیان کا ذکر گزشتہ صفحات میں ہو چکا ہے۔۶۰ مرقاة الیقین صفحہ ۱۲۶ مرقاة الیقین صفحه ۷ ۱۲-۱۳۸ حیات احمد جلد چہارم حاشیہ صفحہ ۱۱۶ - ۱۱۷ از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ابتداء آپ نے ہندو پنساری رکھا ہو ا تھا بروایت مخدوم بشیر احمد صاحب بھیرہ) حیات احمد جلد چهارم حاشیہ صفحہ ۱۷۱۱۶ چراغ دہلی صفحه ۴۵۲ شائع کرده کرزن گزت تاریخ عروج سلطنت انگلشیہ ہند صفحہ ۲۱۹ از مولانا ذکاء اللہ خاں دہلوی ۶۵ - مرقاة الیقین صفحه ۱۲۸-۱۳۱ حیات احمد جلد چہارم صفحہ ے۔