تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 111
107 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک تاریخ احمد اہل اللہ میں سے تھے دہلی میں ۱۸۲۰ء میں پیدا ہوئے۔ان کے مرید مرزا کامران قلعہ معلی کے متعلق خبر دی کہ وہ بد اخلاقی کا مرکز بن رہا ہے آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ قلعہ چھوڑ کر چلے جائیں۔عصر کے وقت مرزا کامران قلعہ سے باہر چلے آئے شام کے وقت آپ کو الہام ہوا کہ تم نے قلعہ والوں کو تباہ کر دیا جب تک یہ قلعہ میں تھا ہم نے عذاب روک رکھا تھا تب شاہ عبد الغنی کو اس کا افسوس ہوا۔قلعہ اور دلی شہر فتح ہو گئے تو شاہ صاحب وہاں سے مع اہل و عیال پہلے کراچی اور کراچی سے مکہ معظمہ میں ہجرت کر آئے پھر مکہ سے مدینہ منورہ چلے گئے (مرقاۃ الیقین صفحہ ۱۹۳) یہیں حضرت مولانا نور الدین ان سے بیعت بھی ہوئے۔آپ حافظ قرآن بھی تھے اور حنفی فقہ کے ماہر بھی اور علماء ہند و حجاز سے اجازت حاصل کرنے کے بعد درس حدیث میں مصروف ہو گئے الحاج الحاجہ " اور بعض دوسری کتابیں ان کی تالیفات میں مولوی صدیق حسن خاں صاحب نے ان کے حالات اپنی کتاب ابجد العلوم کے صفحہ ۱۹۲۹ پر لکھے ہیں۔۱۵ مرقاة الیقین صفحه ۹۶ - مرقاة الیقین صفحه ۹۸ ا مرقاة الیقین صفحه ۱۰۰ ۱۸ مرقاة الیقین صفحه ۱۰۳ -19 کہتے ہیں کہ ولید او خاں صاحب ملک سے پیدل مکہ گئے تھے حضرت شاہ عبد الغنی مسجد وکی سے والہانہ عشق تھا اور ان کی وفات کے بعد ان کے خذیفہ ہوئے۔۲۰ مرقاة الیقین صفحه ۱۰۷ بدر ۲۰ / مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۳ کالم ۲۔مرقاۃ الیقین صفحہ ۱۰۷ ۱۰۹ ۲۲۔الفضل ۲۱ دسمبر ۱۹۴۰ء صفحہ ۳- ۲ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود ایدہ اللہ تعالی کی ایک تقریر ( مطبوعہ العنف ۲۱ ، مارچ ۱۹۵۷ء صفحہ ۳) سے بھی اس واقعہ کی تصدیق ہوتی ہے۔۲۔بیقی حوالہ چالیس جواہر پارے۔۲۴ الفضل ۲۰ دسمبر ۱۹۴۰ء صفحه ۳- ۲ حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے اس نمبر کے الفضل میں یہ سب تفصیلات بتانے کے بعد یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو دوست میری طرح ان حدیثوں کا راوی بننا چاہتے ہیں وہ ان حدیثوں کو میرے سامنے زبانی سنادیں تب میں ان کے آگے یہ سنا کر انہیں راوی بنا دونگا معلوم نہیں کہ آگے کس کس کو یہ توفیق و سعادت ملی کہ وہ آپ سے احادیث سن کر رادی بن سکیں۔۲۵ مرقاة الیقین صفحه 14 ۲۶ مرقاة الیقین صفحه 10 ۲۷- بدر ۱۹۰۳ صفحه :- ۲۸ ملاحظہ ہو بد / ۲ / اکتوبر ۱۹۰۷ء نخ ۳۹۴-۳۹۵ ۲۹ مرقاة الیقین صفحه ۱۱۲ ۳۰ اصحاب احمد جلد ششم متولقہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے میں لکھا ہے کہ حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب الله عنہ کے والد قاضی غلام احمد صاحب نے سفر حج پر جاتے ہوئے حضرت خلیفتہ صحیح اول کے ساتھ اکٹھے ایک ہی جہاز میں سفر کیا تھا ایک روایت کے مطابق) قاضی غلام احمد صاحب بتایا کرتے تھے کہ جب ہم سوار ہوئے سردیوں کا موسم تھا بڑی سخت آندھی آئی تیز بارش کے ساتھ اولے بھی گرے لوگوں نے احرام باندھا ہوا تھا مگر سب نے سروں پر کپڑے ڈھانک لئے تھے مگر میں نے دیکھا کہ ایک تنومند بالا قد نوجوان نے اپنا سر نہیں چھپایا تھا یہ نوجوان حضرت مولوی نور الدین خلیفتہ اصحیح اول تھے آپ نے فرمایا کہ میرے قومی ایسے ہیں کہ میں سخت سردی کو برداشت کر سکتا ہوں اس طرح قاضی صاحب کے تعلقات حضرت خلیفہ اول سے قائم ہو گئے۔۳۱۔مرقاۃ الیقین صفحه ۱۱۳