تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 110 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 110

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 106 سفر د مین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک ا مرقاۃ الیقین صفحه ۹۲ - ۹۳ بدر ۱۳ ستمبر ۱۹۰۸ء صفحه ا کالم ۲ حواشی باب بدر ۹/ نومبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۵ کالم اور احکم ۱۴/ نومبر 1918 ء صفحہ ۳ کالم ۳ میں آپ کی یہ دعا ان الفاظ میں لکھی ہے۔یا الہی میں جب مضطر ہو کر کوئی دعا تجھ سے مانگوں تو اس کو قبول کر لینا۔" ۴۔صحاح ستہ پر آپ کو کافی عبور تھا سادہ سادہ پڑھاتے تھے اور مباحثات کی طرف سے ان کی طبیعت بالکل متنفر تھی۔نهایت ہی کم سخن بزرگ تھے اور باتیں کرنے میں اس قدر تامل تھا کہ بعض اوقات ضروری کلام بھی نہیں فرماتے تھے۔حضرت خلیفہ المسیح اول نے لکھا ہے کہ ان کی صحبت میں مدت دراز تک حاضری کا اتفاق رہا مگر میں نے الفاظ حدیث کے سوا ان کی زبان سے کوئی لفظ نہیں سنا برسوں سے ان کی یہی حالت تھی بالکل الگ تھلگ ہے رہتے اور کسی کو یہ راز نہیں معلوم ہو سکا کہ یہ کھاتے کہاں سے ہیں؟ ان کا یہ روزانہ معمول تھا کہ ان کے درس میں جو سائل آتے تو وہ تھوڑی دیر تک ان کو دیکھتے رہتے پھر -A کسی کو ” یا باسط " کسی کو "یا غنی "کسی کو "یا حمید اور کسی کو "یا مجید "پڑھنے کا ارشاد فرماتے۔(مرقاۃ الیقین صفحہ ۹۴) ولادت ۱۸۱۷ء بمقانہ کیرانہ ضلع مظفر نگر۔مولانا احمد علی مفتی سعد اللہ لکھنوی سے تحصیل علم کیا اور جلد ہی نامور علماء اور مناظرین کی صف اول میں شمار ہونے لگے۔۱۸۴۴ء میں مشہور پادری فنڈر سے آگرہ میں آپ نے کامیاب مناظرہ کیا۔کئی کتابوں کے مصنف تھے اور کئی مغربی مولفین کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔۱۸۵۷ ء کے بعد وہ اپنے قابل شاگرد اور حاجی ڈاکٹر وزیر خان کے ساتھ مکہ معظمہ ہجرت کر کے چلے گئے اور ایک عربی کتاب اظہار الحق تصنیف کی جس کا یورپ کی چند زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔تین مرتبہ قسطنطنیہ گئے۔مگر تعلیم کے شوق اور ضعف پیری کے سبب پھر مکہ تشریف لے آئے۔بڑے محتاط۔وسیع المخلق۔قلیل الکلام اور بڑے دل گردہ کے انسان تھے۔سخت سے سخت اعتراضات بھی بڑی کشادہ قلبی سے نتے اور مسکراتے رہتے تھے۔دینی علوم میں بڑی وسیع نظر تھی۔۱۸۷۰ء میں آپ نے دوسرے علماء ہند (مولوی عبد الحئی لکھنوی قاضی و مفتی سعد اللہ صاحب وغیرہ) کے ساتھ ہندوستان میں جہاد کی حرمت کا فتوی دیا ( اخبار اکمل الاخبار ویلی جلد ۵ نمبر ۳۹ صفحه ۳۰۶) سلطان عبد الحمید خان ثانی نے ان کی تین سو روپیہ ماہور کی پنشن مقرر کر دی تھی۔۱۸۹۱ء میں انتقال کیا اور جنت معلی میں دفن کئے گئے۔(قاموس المشاہیر جلد دوم صفحه ۳۵۹- ۳۶۰ مرقاة الیقین صفحه ۱۹۲) مرقاة الیقین صفحه ۹۵ مرقاة الیقین صفحه ۹۳ ۹ مرقاة الیقین صفحه ۹۵ -1° -N -۱۲ تاریخ مکه معظم (متولفه پیر غلام دستگیر صاحب نامی باشی ) طبع اول صفحه ۱۶۳ ۱۶۷۶ حقیقت حج از منظور علی شملوی (۱۳۵۳ طبع اول صفحه ۱۳۳۹ تامی تھی یہ معلومات پیر غلام دستگیر نامی کی کتاب " تاریخ مکہ معظمہ " صفحه ۶۷٬۱۶۳ اسے ماخوذ ہیں، جو پیر صاحب نے سے ۱۹۲ء میں کی اب تو اس میں اور بھی ترقی ہو چکی ہوگی !! اخبار نور الانوار کانپور نے (۱۷/ جنوری ۱۸۷۴ء صفحہ ۲۰ کالم ۳) مدرسہ کے افتتان پر خبر شائع کی۔" جناب مولوی رحمت اللہ صاحب نے فی الحال پچاس روپیہ ماہواری چندہ جمع کر کے ماور مضان المبارک میں ایک حافظ قرآن مصری اور ایک ہندوستانی اور دو مدرس مقرر کئے اور مکہ معظمہ میں مدرسہ قائم کیا۔البدر / اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحه ۲۹۴ صفحه