تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 106
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 102 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک آسمانی نشانات اور آسمانی کلام لانے والے مامور من اللہ کی ضرورت تھی اور زمانہ کی حالت پکار پکار کر اس ضرورت کا اعلان کر رہی تھی اس لئے حضرت مولوی نور الدین صاحب بعض دوسرے بزرگوں کی بیعت میں شامل ہونے کے باوجود حضرت مسیح موعود کا پہلا اشتہار دیکھتے ہی پر دانہ وار جموں سے قادیان پہنچے۔اور فراست و بصیرت کی باطنی آنکھ سے جو صرف صدیقوں کا خاصہ ہے۔خدا کے اس برگزیدہ کو پہچان لیا جس کے انتظار میں ہزاروں نہیں کروڑوں اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔یہ مارچ ۱۸۸۵ء سے کچھ پہلے کی بات معلوم ہوتی ہے۔اس وقت نہ تو حضور نے بیعت کا سلسلہ شروع کیا تھا نہ مسیحیت وغیرہ کے دعاوی تھے نہ نشانات و معجزات کا بظاہر کوئی ظہور آپ کے سامنے ہوا اور نہ ہونے کا کوئی تصور تھا۔اور آئندہ ہونے والے معرکے کارنامے اور شائع ہونے والا عظیم الشان لٹریچر پر دہ غیب میں تھا۔مگر آپ نے حضور علیہ السلام کا نورانی مکھڑا دیکھتے ہی انوار ماموریت کو بھانپ لیا اور آپ کی محبت و عقیدت میں ایسے کھوئے گئے کہ سچ سچ سب کچھ آپ ہی کے قدموں پر قربان اور نثار کر دیا۔اس بے مثال الفت و شیفتگی کی وجہ پر آپ کسی پیارے اور دل کو لبھانے والے الفاظ میں روشنی ڈالتے ہیں۔اگلے زمانہ میں جب ہم چھوٹے تھے تو سنا کرتے تھے کہ حضرت علیہ السلام آئیں گے ایسے ہوں گے ایسے ہوں گے ویسے ہوں گے غرضیکہ یہ سب باتیں سن کر احمقوں نے جو دل میں ایک تصویر بنالی تھی۔اس کو عین سمجھ لیا اور مرزا صاحب کا انکار اسی بناء پر کیا گیا۔کہ وہ ان کی خیالی تصویر کے مطابق نہ اترے۔انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک ہماری طرح ہی آدمی ہے۔ہمارے پاس لوگ بیمار آتے ہیں وہ بھی دل میں کئی کئی خیال جماکر آتے ہیں کہ وہ ایسے ہوں گے اس طرح بیٹھے ہوں گے۔پھر دیکھنے کے وقت ہم انہیں ایک معمولی انسان نظر آتے ہیں اس قاعدہ میں اللہ تعالٰی نے ایک حکمت رکھی ہوئی ہے اور اسی واسطے اللہ تعالٰی وہ خیالی تصویر رہنے نہیں دیتا تا کہ خدا کی نسبت غلط خیال نہ بیٹھ جاویں۔اس سے مجھے مرزا صاحب کے ماننے میں ذرا بھی وقت نہ ہوئی۔خیالی تصویر تو ہم نے بنائی ہوئی نہ تھی حدیث والے خد و خال ہم کو مل ہی گئے۔" ۱۱۴۰ علم کلام کے متعلق تاثرات یہ تو حضور کی ذات والا صفات کے بارے میں آپ کے جذبات تھے جہاں تک حضور کی تعلیم اور علم کلام کا تعلق ہے۔اس کی قوت و شوکت اور فولادی تاثیر اور جذب و کشش سے متعلق آپ کے تاثرات بڑے ہی فیصلہ کن تھے۔چنانچہ خود ہی فرماتے ہیں۔