تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 107
103 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک میں جب قادیان میں آیا۔شروع میں یہاں مرزا صاحب مرحوم و مغفور ہی تھے ان کی بیوی خود کھانا پکاتی تھی اور ایک خادمہ تھی ہیں۔لیکن جب تعلیم دیکھی تو میں نے کہا کہ ایسی ہے کہ عقلمندوں کو کھا جائے گی۔اور مجبور ا یہ صداقت دنیا کو پہنچ جائے گی۔لیکن امیر نہ مانیں گے چنانچہ میرے دیکھتے دیکھتے یہ سب آگئے اب بھی عقلمند سن کر مقابلہ نہیں کر سکتا۔" الدا حضرت مسیح موعود حضرت مولوی صاحب آیت اللہ تھے اور آپ کی آمد نشان علیه السلام ماموریت کے وقت سے ہی دعا میں مصروف تھے کہ الہی دین اسلام کی خدمت کے لئے مجھے مددگار اور انصار عطا فرما۔آپ کی دعا ئیں اور التجائیں عرش تک پہنچیں اور رب العزت نے کشمیر سے مولانا نورالدین جیسا عظیم الشان انسان بھیج دیا اور وہ خبر پوری ہو گئی کہ مہدی کے انصار کشمیر سے آئیں گے۔اس اعتبار سے حضرت مولوی صاحب کی آمد یقیناً ایک عظیم الشان نشان تھی اور آپ بلاشبہ آیت اللہ تھے۔یہ امربیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔مازلت مذامرت من حضر الرب و احييت من الحر ذى العجب احن الى عيان انصار الدين ولا حسنين العطشان الى الماء المعين وكنت اصرخ فى لیلی و نهاری و اقول يا رب من انصارى يارب من انصارى انى فرد مهين فلما تواتر رفع يد الدعوات و امتلاء منه جو السموات اجيب تضرعى و فارت رحمة رب العالمین فاعطاني ربی صديقا صدوقا هو عين اعوانى و خالصة خلصاني وسلالة احبائي في الدين المتين اسمه كصفاته النورانية نور الدين هو بهير وی مولدا و قرشی فاروقى نسبا من سادة الاسلام و من ذرية النجبين الطيبين فوصلت بوصوله الى الجذل المفروق و استبشرت به کاستبشار السيد بالفاروق ولقد ا نسيت احزاني مذ جاءني ولقانی۔۔۔ولما جاء ني ولا قاني ووقع نظری علیه رايته آية من آیات ربی و ایقنت انه دعائی الذي كنت اداوم عليه و اشرب حسی و زبانی حد سى انه من عباد الله المنتخبين - " (ترجمہ) جب سے میں خدا تعالیٰ کی درگاہ سے مامور کیا گیا ہوں اور جی وقیوم نے مجھے نئی زندگی بخشی ہے مجھے دین کے چیدہ مددگاروں کا شوق رہا ہے۔اور وہ شوق پیاسے سے کہیں بڑھ کر رہا ہے میں خدا تعالیٰ کے حضور آہ وزاری کرتا تھا اور عرض کرتا تھا کہ الہی میرا نا صر و مددگار کون ہے میں تنہا اور بے حقیقت ہوں پس جب دعا کا ہاتھ مسلسل اٹھا اور فضائے آسمانی میری دعاؤں سے معمور ہو گئی اللہ