تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 97 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 97

تاریخ احمدیت جلد ۳ 93 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک |||| غیر مسلموں کے علاوہ مسلمان علماء خصوصاً شیعہ حضرات سے بھی گاہے گا ہے گرما گرم بخشیں جاری رہتی تھیں۔اور چونکہ دیوان اننت رام وزیر اعظم کے استاد مولوی عبد اللہ صاحب شیعہ خیال کے تھے اس لئے بعض اوقات ان کے سامنے بھی سوال و جواب ہوتے تھے۔اور آپ کے معقول و مسکت جوابات سے ان کی تسلی ہو جاتی تھی۔ایک غالی شیعه طبیب غالبا میر نواب لکھنوی (2) ولی عہد کے خاص طبیب تھے ایک دن انہوں نے مطاعن صحابہ کا ذکر شروع کر دیا۔آپ نے ان سے صرف اس قدر کہا کہ عمر نام صحابی کی اولاد میں سے میں بھی ہوں۔ہاں اب آپ اعتراض کیجئے۔ان کی متانت و شائستگی اور شرافت دیکھو جب تک آپ ریاست میں رہے انہوں نے پھر کبھی آپ کے سامنے مذہبی چھیڑ چھاڑ نہیں کی آپ نے ۸۱ - ۱۸۸۰ء میں ولی عہد کی تحریک پر ایک خط بھی "خطوط جواب شیعہ در دسخ" کے نام سے شائع کیا مگروہ خاموش ہی رہے۔اور کوئی جواب نہ دیا۔اس زمانہ کی تصنیفات اس زمانہ کی تصنیفات جو آپ کے قلم سے شائع ہو ئیں۔(1) کتاب فصل الخطاب في مسئلہ فاتحة الكتاب ۱۵/ نومبر ۱۸۷۹ء کو رگھوناتھ پریس جموں میں شائع ہوئی۔یہ کتاب مولوی فضل الدین صاحب گجراتی (۱۸۳۴ - ۱۹۰۸ء) والد قریشی محمد حسن صاحب لاہور کے جواب میں تالیف فرمائی جو ان دنوں ریاست جموں و کشمیر کے محکمہ تاریخ کے سپرنٹنڈنٹ تھے اور مدرسہ نعمانیہ کے باغیوں میں سے تھے۔(۲) خطوط جواب شیعه در د نسخ (سن تالیف ۸۱ - ۶۱۸۸۰) (۳) ایک عیسائی کے تین سوالوں کے جواب (پادری جیمز کے جواب میں ایک رسالہ جسے انجمن حمایت اسلام لاہور نے وسط ۱۸۸۹ ء میں شائع کیا ( تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ ۱۸۳ پر اس کا ذکر آچکا ہے۔(۴) تصدیق براہین احمدیہ (سن اشاعت ۱۸۹۰ء) اس کا کسی قدر تذکرہ تاریخ احمدیت جلد دوم میں گذر چکا ہے مزید تفصیل آگے آرہی ہے۔(۵) رو تاریخ ( مطبوعہ ۱۸۹۱ء) پنجاب پریس سیالکوٹ۔اس کے علاوہ آپ ان دنوں مختلف رسائل واخبارات میں اپنے مجربات یا مضمون بھی بھیجا کرتے تھے۔مثلا ۱۸۷۹ء میں ” مرءة الطبابت" میں مجربات لکھتے رہے۔(طبیب حاذق جلد نمبر ۲) دھاریوال ضلع گورداسپور سے ایک رسالہ " انتخاب الحکمت" مطبع شعلہ نور بٹالہ سے چھپتا تھا۔اس کے جولائی ۱۸۸۸ء کے ایشوع میں (صفحہ ۹ کالم ) آپ کے مجربات شائع ہوئے جن کا عنوان تھا علاج ہیضہ