تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 92
تاریخ احمدیت جلد ۳ 88 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک ڈی۔سی و چیئر مین مجلس اوقاف اسلامیہ جموں بھی ہیں۔ان کا چشم دید بیان ہے کہ گو اس وقت میری عمر زیادہ نہ تھی تاہم مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ عام طور پر نماز جمعہ مسجد منصب داراں واقع کوچه موچیاں محلہ تالاب کھٹیکاں جموں میں ادا کرتے اور بعد ادائے نماز جمعہ میرے حقیقی بچا کر نل سردار یار محمد خاں صاحب کے مکان واقعہ محلہ تالاب کھٹیکاں میں مجلس عرفان گرم رہتی اس مجلس میں دینی مسائل وغیرہ پر گفت و شنید ہوتی۔اتنے میں نماز عصر آجاتی۔چائے نوش کرنے اور نماز عصر کی ادائیگی کے بعد بیماروں کو دیکھنے کے لئے تشریف لے جاتے آپ غریبوں کا علاج مفت کرتے تھے اور آپ ان سے ہمدردی سے پیش آتے تھے اور مفلس مریضوں کی نقدی سے بھی امداد کرتے تھے۔آپ کی رہائش گاہ جموں میں دالوں کے دو منزلہ مکان کے اندر تھی (نزد مکان بخشی را مد اس صاحب وزیر وزارت) با عمل متجر عالم تھے۔آپ کی مجلس میں شرکت کرنے والوں میں سے چند کے اسماء گرامی یہ ہیں۔کر تل سردار یار محمد خاں خانصاحب۔خلیفہ نور الدین صاحب۔چوہدری فتح محمد صاحب کھیک۔مفتی محمد صادق صاحب۔شیخ فتح محمد صاحب سپر نٹنڈنٹ خاطر تواضع۔مولوی امیر عالم صاحب۔حکیم مولوی عمر الدین صاحب۔حکیم مولوی محمد حسین صاحب۔منشی فضل احمد صاحب۔چوہدری اللہ دتہ کھٹیک صاحب۔سید محمد شاہ صاحب ٹھیکیدار بخشی را مد اس صاحب وزیر وزارت۔لالہ امریک رائے صاحب وزیر وزارت - عظیم الشان طبی خدمات ملازمت ریاست کے دوران مہاراجہ کی توقع کے مطابق ریاست کو بھاری فائدہ ہوا۔اور آپ کے قدم سے اس کی خوش نصیسی کے دن پلٹ آئے نجی طور پر بھی آپ نے مطلب جاری کر رکھا تھا جس سے عوام و خواص وسیع پیمانہ پر استفادہ کرتے تھے بے شمار لاعلاج مریض آپ کے ہاتھوں شفایاب ہوئے۔میاں لعل دین صاحب رئیس جموں (جو خدمت گاری کے عہدے پر فائز تھے ) ان کی بیٹی نے زمیر کاذب کی مرض سے نجات پائی جس پر انہوں نے آپ کو ایک یا رقندی یا بو مع زمین بھی دیا اور خلعت بھی ملی ایک چنگی افسر نے شدید قولنج سے شفا پائی۔بعض لوگ جو خطرناک ضعف باہ میں مبتلا تھے آپ کے علاج سے صحت یاب ہوئے۔۱۸۷۹ء کے قریب کشمیر میں سخت قحط پڑا اور اس کے بعد ہیضہ کی خطرناک وبا پھوٹ پڑی اور ہزاروں لوگ لقمہ اجل ہوئے آپ نے اس وباء میں مخلوق خدا کی خدمت میں دن رات ایک کر دیا جس پر آپ کو مہاراجہ صاحب نے ایک نہایت قیمتی خلعت بطور انعام پیش کی۔۸۱ - ۱۸۸۰ء میں راجہ *41)