تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 88 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 88

تاریخ احمدیت ، جلد ۳ 84 نظر زمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک رہا۔پھر آپ ریاست کی ملازمت چھوڑ کر واپس بھیرہ میں آگئے۔بھیرہ میں آمد اور ریاست جموں و کشمیر میں ملازمت کی تحریک بھیرہ جو آپ کے چلے جانے سے کچھ بے رونق سا ہو گیا تھا آپ کی تشریف آوری سے دوبارہ آباد ہو گیا اور عوام پھر سے آپ کے طبی اور دینی کمالات سے فیض یاب ہونے لگے اس زمانہ میں کئی اہم واقعات ہوئے۔(1) آپ کی خاص کوشش سے بھیرہ کی ایک مسجد کے ساتھ (جو پنکھے بنانے والوں کے محلہ میں واقع تھی) کنواں بنا اور مسلمان عورتیں جن کو بازار میں سے ہو کر پانی لانا پڑتا تھا ان کو بڑا آرام ہو گیا۔۶۸ (۲) ایک امیر کبیر آدمی محرقہ آپ کا مریض آپ کے زیر علاج تھا آپ نے اس کے علاج معالجہ میں کوئی کسر نہ اٹھار کبھی آپ کو یقین تھا کہ ساتواں دن بحران کا ہے جس کے بعد بخار ٹوٹ جائے گا۔اس کے گھر والے اس بات سے ناواقف تھے۔انہوں نے جو ساتویں روز کی شام کو مریض کو سخت اضطراب میں پایا تو وہ راتوں رات پنڈ دادنخان کے ایک خاندانی طبیب کرم علی کو بلالائے بحران شروع ہو چکا تھا اس طبیب کی ایک پڑیہ سے ہی تپ ختم ہو گیا۔گھر والوں نے اس جادو بھری پڑیہ پر اسے انعام و اکرام دیا۔اور آپ کو یہ انعام ملا کہ مخلوق پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔(۳) آپ کے ایک دوست خان بہادر ملک صاحب خاں صاحب ٹوانہ رئیس ٹوانہ سی ایس آئی اسی برس کے ہو چکے تھے اور لاولد تھے ایک مرتبہ وہ کسی انگریز کی کوٹھی میں تھے۔انگریز نے سوال کیا کہ محمد (رسول اللہ ) سچے رسول تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہاری کوٹھی میں آکر تو حضور بچے رسول ہی ثابت ہوتے ہیں۔اس نے پوچھا کیسے ؟ انہوں نے کہا۔کہ میرے پاس تین لاکھ جمع ہے اس برس کی عمر ہے اور اولاد کوئی نہیں پھر بھی آپ کی کوٹھی میں آکر یہی جی چاہتا ہے کہ کچھ زمین اور مل جائے کوئی کرسی کا درجہ بڑھ جائے مال و دولت اور عورت وغیرہ ہی لطف کی چیزیں ہیں۔لیکن حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے منع فرما دیا کہ دنیا سے محبت نہ کرو۔کسی کا مال نہ لو کسی کی عورت کو نہ دیکھو۔پھر اپنی اولاد (سادات) کے لئے زکوۃ تک لینا ممنوع کر دیا۔پس اب یہ بتاؤ کہ پیغمبری سے انہوں نے خود کون سا فائدہ اٹھایا حتی کہ اولاد کے لئے صدقہ تک حرام کر دیا یہی معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے زبر دستی ہی پیغمبری کار عومی کرایا ہو گا۔یعنی خدا تعالٰی نے ہی پیغمبر بنایا ہو گا۔جب حضرت مولوی صاحب کو اس واقعہ کا پتہ چلا تو سنتے ہی آپ کی زبان پر بے ساختہ جاری ہوا کہ اب ضرور ملک صاحب کے لڑکا بھی پیدا ہو گا۔