تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 87 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 87

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 83 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک کثرت سے لوگ جاتے ہیں اور آتے بھی ہیں۔اس مکان میں مخلوق کی اس قدر آمد و رفت دیکھ کر آپ بھی بلا تکلف اس مکان میں گھس گئے۔جب اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ نیچے ایک بہت بڑا دالان ہے اور او پر زینہ کے راستہ بالا خانہ پر لوگ جا رہے ہیں۔آپ نے ان سپاہیوں کو تو اس دالان میں بٹھایا اور بلا تکلف سڑھیوں پر چڑھ گئے دل میں ذرا بھی وسوسہ نہ آیا کہ یہ کس کا اور کیسا مکان ہے گویا قدرت کا ایک ہاتھ تھا جو آپ کو پکڑ کر اوپر لے گیا۔وہاں کثرت سے آدمی بیٹھے ہوئے تھے آپ بھی ان کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے ان لوگوں میں سے صرف عبید اللہ صاحب ساکن بنت مصنف تحفتہ الہند کو پہچانا آپ کو دیکھتے ہی وہ بڑے خوش ہو کر بولے آپ کا آنا تو میرے لئے بڑا ہی مبارک ہوا ہے میرے ساتھ کچھ نوجوان نو مسلم ہیں میں اس فکر میں تھا کہ ان کو کہاں رکھوں۔اب آپ جیسا انسان اور کون مل سکتا ہے۔آپ ان کو اپنے یہاں لے جائیں یقین ہے کہ بڑی مہربانی سے رکھیں گے انہیں نو مسلموں میں آپ کے ایک دوست ہدایت اللہ بھی تھے وہ بہت کمسن تھے۔آپ نے کہا ہاں میں بخوشی ان کی خدمتگزاری کو موجود ہوں مجھ کو بھی اپنے مکان پر واپس جانا ہے آپ میرے ساتھ کر دیں مولوی صاحب نے کہا ان کے ساتھ ان کے بسترے اور سب ضروری سامان موجود ہے آپ نے فرمایا میرے آدمی نیچے بیٹھے ہیں وہ سب اٹھوا کر لے چلیں گے ان کو دیدو۔ان سپاہیوں سے اسباب اٹھو اگر آپ بخیر وعافیت منشی صاحب کی خدمت میں پہنچ گئے۔وہ بہت ہی خوش اور احسان مند ہوئے اور سب کو اپنی بگھیوں میں سوار کراکر کیمپ میں لے آئے۔آپ نے کہا کہ میں تھوڑے ہی دن آپ کے پاس رہ سکتا ہوں اور میاں محمد عمر کے رسولی ہے یہ بہت دونوں کے بعد جائے گی۔اور میں گھر میں اطلاع دیکر بھی نہیں آیا۔انہوں نے کہا آپ ضرور ٹھہریں اور گھر کے لئے پانسو روپیہ کا نوٹ بھیج دیں آپ بہت مشوش ہوئے کہ نام تو بارہ سو کے مقروض ہو کر نکلے تھے اور یہ تو پا نسوہی دیتے ہیں شاید وہ جگہ نہیں جہاں ہمیں جانا ہے۔المختصر آپ نے وہ نوٹ تو اس ہندو قرض خواہ کو بھیجوا دیا اور گھر میں لکھا کہ آپ مطمئن رہیں تھوڑے ہی دونوں کے بعد منشی صاحب نے سات سو روپیہ اور دیا۔اور آپ سے کہا کہ جس طرح ممکن ہو آپ بھوپال تک چلیں۔آپ نے سمجھا کہ میرا قرضہ تو پورا ہو ہی گیا ہے اب جہاں چاہیں جاسکتے ہیں۔پھر قبل ازیں آپ بھوپال آنے کا وعدہ بھی فرما چکے تھے۔اس کے پورا کرنے کا موقع اب آچکا تھا۔HD چنانچہ آپ منشی صاحب کے ہمراہ بھوپال تشریف لے گئے منشی بھوپال میں دوسری بارو رود صاحب نے کچھ ماہانہ اپنے پاس سے اور دو سو روپیہ ریاست سے مقرر کرا دیا اور کہا کہ لوگوں سے فیس لے سکتے ہیں غرض آپ کا کچھ مدت تک بھوپال میں قیام