تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 86 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 86

تاریخ احمدیت جلد ۳ 82 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک کلاس کا کیا کرایہ ہے معلوم ہوا کہ پندرہ آنہ۔اس کوٹ کی جیب میں دیکھا تو صرف پندرہ آنہ کے پیسے پڑے تھے۔آپ نے ٹکٹ لیا اور لاہور پہنچے۔یہاں بڑی بھیٹر تھی کیونکہ لوگ دربار کے سبب دہلی جا رہے تھے ٹکٹ کا ملنا محال تھا اور آپ کی جیب میں تو کوئی پیسہ بھی نہ تھا ایک پادری جن سے کسی مرض کے متعلق طبی مشورہ دینے کے سبب آپ کی پہلے سے جان پہچان تھی سٹیشن پر مل گئے ان کا نام گولگ ناتھ تھا انہوں نے کہا کہ آپ کہاں جاتے ہیں ٹکٹ تو بڑی مشکل سے ملے گا۔آپ نے کہا مجھ کو دہلی جانا ہے گولگ ناتھ نے کہا میں جاتا ہوں اور ٹکٹ کا انتظام کرتا ہوں چنانچہ وہ گئے اور بہت ہی جلد ایک ٹکٹ دہلی کا لائے۔آپ نے ٹکٹ ان سے لے لیا اور جیب میں ہاتھ ڈالا۔تو پادری صاحب کہنے لگے آپ میری ہتک نہ کریں معاف کریں میں اس کے دام نہ لوں گا اور میں بھی تو دہلی جاتا ہوں رستہ میں دیکھا جائے گا۔آپ رستہ میں ان کو تلاش کرتے رہے مگر وہ نظر نہ آئے اور دہلی کے سٹیشن پر بھی باوجود تلاش کے آپ کو نہ ملے۔دہلی سٹیشن پر اترے تو عصر کا وقت تھا۔آہستہ آہستہ اس سڑک پر چلے جس پر رؤساء کے خیمے نصب تھے۔اور غالبا پانچ میل نکل گئے اب چونکہ آفتاب غروب ہونے کو تھا آپ نے واپسی کا ارادہ کیا اتنے میں ایک سپاہی جو منشی جمال الدین صاحب مدار المهام بھوپال کے کا ملازم تھا دوڑتا ہوا آپ کے پاس آیا اور کہا کہ آپ کو منشی صاحب بلاتے ہیں انہوں نے آپ کو دیکھ کر مجھے بلانے بھیجا ہے آپ نے کہا اب تو وقت تنگ ہے میں کل انشاء اللہ تعالیٰ ان کی خدمت میں آؤں گا اس نے کہا کہ وہ بہت اصرار سے آپ کو بلاتے ہیں آپ نے پھر بھی کہا کہ کل آؤں گا۔اس نے کہا پاس ہی تو خیمہ ہے آپ ذرا تکلیف کر کے خود ہی ان سے عذر کر لیں۔جب آپ تشریف لے گئے تو وہ حسب عادت بڑی ہی مہربانی سے پیش آئے اور فرمایا کہ میرا ایک نواسہ محمد عمر نام بیمار ہے آپ اس کو دیکھیں۔آپ نے فرمایا میں کل آکر اس کو دیکھوں گا انہوں نے کہا کہ آپ آج رات کو یہیں رہیں کل ہم آپ کے مکان پر چلیں گے چنانچہ آپ کے لئے علیحدہ ایک آرام دہ خیمہ کھڑا کر دیا۔اور اگلے روز چونکہ جمعہ تھا انہوں نے یہ سمجھ کر مکان پر جانے سے تو اس کو ہم نے روک لیا ہے راتوں رات ہی آپ کے لئے کپڑے تیار کرا دیئے۔جو آپ نے اگلے روز پہن لئے۔جمعہ کا وقت آیا تو آپ دونوں جامع مسجد گئے اور نماز پڑھی۔جس طرف حضرت مظہر جانجاناں شیخ المشائخ کی قبر ہے اس طرف کی سیڑھیوں سے وہ اترے وہیں ان کی بگھیاں کھڑی تھیں۔آپ سے کہا کہ آپ کا مکان کہاں ہے ادھر چلیں آپ حیران۔سامنے ایک تنگ گلی نظر آئی آپ نے کہا ادھر ہے۔فرمایا اس طرف تو ہماری بگھی نہیں جا سکتی۔اپنے دو آدمی آپ کے ساتھ کر دیئے اور کہا کہ اسباب لے آؤ۔آپ ان آدمیوں کو ساتھ لئے ہوئے اس گلی میں پہنچے کسی ارادہ کے بغیر چلے جاتے تھے کہ ایک مکان نظر پڑا کہ اس مکان میں بڑی