تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 85 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 85

جلد ۳ 81 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تیک بھوپال سے دعوت اور آپ کا سفر لاہور منشی جمال الدین صاحب مدار المهام ریاست بھوپال کو آپ سے جو محبت و عقیدت تھی۔اس کی بنا پر وہ چاہتے تھے کہ آپ دوبارہ بھوپال میں تشریف لائیں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں ان کی طرف سے جو تحریری دعوت نامہ پہنچا تو آپ بھی بھوپال جانے کے لئے بھیرہ سے روانہ ہو گئے۔اور خلیفہ نور الدین صاحب جونی کو بھی ساتھ لے لیا۔لاہور پہنچے تو ان سے کہا کہ آپ لاہور میں ہی ٹھہریں بھوپال پہنچ کر آپ کو وہاں بلالیں گے۔لیکن اس اثناء میں آپ کے بڑے بھائی مولوی سلطان احمد صاحب کا انتقال ہو گیا۔اس لئے حضرت مولوی صاحب کو یہ سفر ملتوی کر کے واپس بھیرہ آنا پڑا خلیفہ نورالدین صاحب نے لاہور کے ایک مدرسہ میں با قاعدہ داخلہ لے لیا تھا مگر آپ ان کو بھی ساتھ ہی لے آئے۔اور طب اور حدیث کی تعلیم کا سلسلہ پھر سے با قاعدہ جاری ہو گیا۔اپنے بچوں کی تعلیم و پرورش میں امداد ادویہ کی کوٹ چھان کی نگرانی ، مریضوں کے لئے نسخہ جات لکھنا اور ان کی تیاری اور تقسیم کا سب کام آپ نے انہی کے سپرد کر رکھا تھا۔خلیفہ صاحب موصوف دس بارہ سال تک آپ کی خدمت میں حاضر رہے اور گھر کے ایک فرد کی حیثیت سے رہے۔مکان کی عمارت تو بارہ سو روپیہ میں مکمل ہو گئی مگر لارڈلٹن کے دربار دہلی میں شمولیت اب آپ کو فکر لاحق ہوئی کہ ہندو قرض خواہ کہیں اپنا روپیہ ہی نہ طلب کر بیٹھے اتفاق کی بات یہ ہوئی کہ یکم جنوری ۱۸۷۷ء کو وائسرائے ہند لارڈلٹن (Lard Lutton) کا دربار دہلی کی پرانی چھاؤنی میں اس پہاڑی کے نیچے منعقد ہو رہا تھا جس پر سے انگریزوں نے شہر کو فتح کیا تھا دربار میں بڑے بڑے رئیس ، جاگیردار اور راجے مہاراجے مدعو تھے اور خود آپ کو شمولیت کے لئے اطلاع آچکی تھی۔مگر بعض مخصوص حالات کے باعث آپ کا دہلی جانا ممکن نہیں تھا کہ اس اثناء میں آپ کے ایک دوست ملک فتح خانصاحب گھوڑے پر سوار ہو کر آپ کی خدمت میں پہنچے اور بتایا کہ بڑے رئیس تو دیلی دربار میں جمع ہو نگے مگر اس تاریخ کو راولپنڈی میں بھی دربار ہو رہا ہے اور ہم اس میں بلائے گئے ہیں حضرت مولوی صاحب نے ان کے کان میں چپکے سے کہا کہ مجھے بھی دربار میں جاتا ہے انہوں نے جھٹ اپنا گھوڑا سواری کے لئے پیش کر دیا۔چنانچہ آپ گھر میں اطلاع دیئے بغیر سوار ہو کر ان کے ساتھ چل دیئے۔جہلم پہنچ کر ملک صاحب تو راولپنڈی کی ریل میں سوار ہو گئے اور آپ تنہا رہ گئے سفر میں آپ کے کپڑے بہت ہی میلے ہو چکے تھے۔اس لئے آپ ملک حاکم خاں تحصیلدار کے ہاں پہنچے اور ان کا ایک پاجامہ پگڑی اور کوٹ زیب تن کر لیا۔مگر نیچے کرتا نہیں پہنا۔سیر کے لئے باہر نکلے اور شملتے ہوئے سٹیشن جہلم پر پہنچے کسی سے دریافت کیا کہ لاہور کا تھرڈ