تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 84 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 84

تاریخ احمدیت جلد ۳ A* سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک * کی طرف سے آپ کے مکان کا پشتہ کمیٹی بنادے۔پھر کمیٹی والوں سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ آپ کو کوئی اعتراض ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں وہ تحصیلدار آپ سے کہنے لگا کہ یہ ایک ہزار روپیہ اور ہم پر جرمانہ ہوا۔آپ نے ان سے کہا کہ تم ان باتوں کو کیا سمجھ سکتے ہو ؟ اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کی ایک بار پھر غیبی نصرت فرمائی اور مکان تیار ہو گیا اس کے بعد ہندو کے قرض کی ادائیگی کس طرح ہوئی یہ بھی ایک ایمان افروز واقعہ ہے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔آپ کے مطب کی یہ خصوصیت ابتدا ہی سے رہی کہ یہ ایک مکمل درسگاہ ہو تا تھا جس میں مریضوں کی تشخیص اور دوا دینے کے علاوہ قرآن وحدیث اور دوسرے علوم کی تدریس کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا چنانچہ خلیفہ نورالدین صاحب جمونی (جو اس زمانہ میں جموں سے بھیرہ میں آپ کی خدمت میں حاضر تھے ) بیان کرتے ہیں۔ایک دفعہ میرا بھیرہ جانا ہوا۔وہاں حضرت مولوی نور الدین صاحب کے بڑے بھائی سلطان احمد صاحب نے ذکر کیا کہ ان کے بھائی (حضرت خلیفہ اول) حدیث کا علم حاصل کرنے کے لئے مکہ گئے ہوئے ہیں اور کچھ عرصہ تک واپس آئیں گے۔میں ان کا منتظر رہا۔ایک روز صبح کے وقت گجرات میں میرے والد صاحب اور مولوی برہان الدین صاحب حمام میں نہانے کے لئے گئے۔نہا کر مولوی برہان الدین صاحب نے فرمایا۔کہ بھیرہ میں ایک اہل حدیث حدیث کا علم پڑھ کر آیا ہے میں نے مولوی صاحب سے ان کا نام پوچھا انہوں نے فرمایا۔نور الدین۔میں نے پوچھا۔کیا وہ آگیا ہے کہنے لگے ہاں۔میں نے کہا کہ میں تو اس کا منتظر تھا۔چنانچہ میں نماز پڑھ کر ایک کمبل کاندھے پر رکھ کر چل پڑا۔تیسرے روز بھیرہ پہنچا اور حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت مولوی صاحب نے حکیم فضل الدین صاحب اور دیگر اہل حدیثوں سے فرمایا کہ یہ ایک اور اہلحدیث آیا ہے۔حضرت مولوی صاحب نے مجھے اہل حدیثوں کی مسجد یعنی حکیماں والی مسجد کا امام مقرر فرمایا۔اور میرا کھانا اپنے گھر پر مقرر کر دیا۔مولوی صاحب مجھے خود حدیث پڑھاتے تھے لیکن پڑھائی کے دوران میں بہت مریض آجایا کرتے تھے۔حضرت مولوی صاحب ایک دو حدیثیں پڑھانے کے بعد مجھے نسخے لکھوانے لگ جاتے اور پھر فرماتے ان کو یہ دوائیاں بانٹ دی۔دوائیوں کی تقسیم کے بعد مولوی صاحب پھر پڑھانا شروع کر دیتے اس اثناء میں اور مریض آجاتے تو پھر نسخہ لکھنے اور دوائیاں تقسیم کرنے کا کام شروع ہو جاتا۔غرضیکہ مریضوں کے ہر گروہ کے وقفہ کے درمیان ایک دو حدیثوں کی پڑھائی ہوتی۔