تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 80 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 80

تاریخ احمدیت - جلد ۳ 76 سفر د مین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک کہہ کر میں چلا آیا۔دن کے آخر حصہ میں جب علماء اکٹھے ہو کر ان کے پاس گئے اور میرے اخراج کا فتویٰ پیش کیا۔تو پیر صاحب نے ہنس کر یہ فرمایا کہ فقر کا دروازہ بڑا ہی اونچا ہے۔ہندو۔سکھ۔مسلمان۔عیسائی۔وہابی سب فقر کے سلامی ہیں۔تب ان علماء نے عرض کیا کہ آپ نے کل فرمایا تھا کہ میں کل تدبیر بتادوں گا۔اور ہم سے خوب پکی بات آپ کی اس کام کے متعلق ہو چکی تھی۔پیر صاحب نے کہا کہ ہاں آپ رسول کی گدی کے مالک ہیں اور اس لئے آپ کی رعایت کرنی ضروری ہے لیکن فقر کا دروازہ بہت اونچا ہے اور فقر کے سب سلامی ہیں مولویوں نے بڑا ہی زور دیا مگر سلام کے لفظ کو پیر صاحب چھوڑ نہ سکے۔پھر ان کا آدمی پہنچا اور کہا کہ پیر صاحب آپ کے مکان کے قریب سے گذریں گے جب وہ قریب آئیں تو آپ باہر نکل کر ان سے ملیں۔میں نے خیال رکھا۔جب مجھ کو معلوم ہوا کہ وہ قریب ہیں میں مکان سے نکل کر ان سے ملاوہ ایک گھوڑی پر سوار تھے مگر کوئی آدمی ان کے آگے پیچھے نہ تھا۔حالانکہ وہ بڑے ذی وجاہت آدمی تھے مجھ سے کہنے لگے کہ " جو ان ! میں نے وہ کام کر دیا ہے۔یار! اب اپنے مریدوں سے کہہ دینا کہ وہ ہم کو سلام کر لیا کریں " آپ نے کہا کہ ” جب میں نے خود آپ کو سلام کیا ہے تو میرے مرید بھلا کیوں نہ کریں گے۔" بھیرہ میں چونکہ آپ کے خلاف ایک زبردست ہنگامہ بپا تھا اس لئے فریقین کی ضمانتیں اور مچلکے ہوئے بایں ہمہ علماء کا جوش انتقام فرد نہیں ہوا بلکہ انہوں نے علاقہ بھر میں اپنی سرگرمیوں کو اور بھی تیز کر دیا اور جہاں جہاں تک ان کا بس چلا عوام کو آپ کی مخالفت اور بائیکاٹ پر اکساتے چلے گئے * پہلی شادی انہیں ایام میں (عمر تھیں سال) آپ کی پہلی شادی مفتی شیخ مکرم صاحب قریشی عثمانی بھیروی کی لڑکی محترمہ فاطمہ بی بی صاحبہ سے ہوئی۔بھیرہ میں تقلیدی رسوم و بدعات کے خلاف سب سے پہلی آواز حضرت مولوی صاحب نے ہی بلند کی جس کی وجہ سے آپ کی مخالفت اور زیادہ بڑھ گئی اور مخالفین کا گر وہ آپ کے نکاح میں بھی حارج و مانع ہوا۔نکاح پڑھنے والے آپ کے ایک استاد تھے۔آپ نے ان سے کہا کہ مہر تو مجھے ادا کرنا پڑے گا آپ کو نہیں اس لئے مرواجبی رکھئے۔عورتوں میں ایک شور مچ گیا کہ لڑکا بول پڑا۔آپ کے استاد صاحب بھی ناراض ہو گئے عورتیں بھی سخت جزبز ہو ئیں لیکن آپ نے پانسو سے زیادہ منظور نہ کرنا تھا نہ کیا۔بہر کیف آپ کے خسر نے ان باتوں کی کچھ پرواہ نہ کی۔حضرت مولوی صاحب کی مخالفت میں سب سے زیادہ اور نمایاں حصہ تو حنفی یا مقلدین اصحاب نے لیا تھا مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہر قسم کے خیال و مسلک کے لوگ آپ کی تکفیر پر جمع ہو گئے چنانچہ آپ ایک مقام پر لکھتے ہیں۔